We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

رکھو اپنے ٹماٹر اپنے پاس

15 3 30
22.02.2019

تاریخ کے مضمون کے بارے میں نہ جانے کیوں یہ قیاس کر لیا گیا ہے کہ تاریخ صرف بادشاہوں اورحکمرانوں کی ہوتی ہے۔ اس خیال نے اتنی جڑیں پکڑیں کہ تاریخ کی کتابوں میں مشکل ہی سے لکھا جاتا ہے کہ کس حکمراں کے دور میں عوام کا کیا حال تھا۔ لوگ کیسے جیتے تھے۔ دو وقت کی روزی کیسے کماتے تھے۔ کتنی محنت اور کس قدر مشقت کرتے تھے۔ ایک اور اہم بات جس کی طرف سے تاریخ کے مضمون نے نگاہیں پھیر رکھی ہیں یہ ہے کہ کس دور میں لوگ کھاتے پیتے کیا تھے۔ ان کی خوراک کیا تھی اور غذا کیسی تھی۔ میں جن دنوں لندن کے قومی کتب خانے اور انڈیا آفس لائبریری میں اردو کی قدیم کتابوں کے ذخیرے چھان رہا تھا، بڑی کوشش سے صرف ایک کتاب ہاتھ لگی جسے ہم کھانا پکانے کی کتاب کہہ سکتے ہیں۔ کتاب کا نام تھا الوانِ نعمت، لکھی تھی بُلاقی داس نے اور یہ بات ہے آج سے کوئی ڈیڑھ سو سال پہلے سنہ 1876ء کی۔ یہ بلاقی داس کون صاحب تھے، اردو زبان کی تاریخ میں ان کا ذکر ملتا ہے۔ یہ دلّی کے ایک کتب فروش تھے، ان کا اپنا چھاپہ خانہ تھا اور خود مصنف بھی تھے۔ میں نے ان کی لکھی ہوئی کھانے پکانے کی کتاب بہت شوق سے پڑھی کیونکہ سنہ ستاون کی تاریخی بغاوت کے بعد سب کو اپنی اپنی جان کی پڑی تھی، کتاب لکھنے کی طرف دھیان کم ہی جاتا تھا اور وہ بھی کھانے پکانے کی کتاب۔ اس کے مطالعے کے دوران آنکھیں کھولنے والے انکشافات ہوئے۔ مثال کے طور پر اُس زمانے میں لفظ دھنیا رائج نہیں تھا بلکہ اس کو........

© Daily Jang