We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہماری زمینیں بھی مالا مال ہیں اور ذہن بھی

9 1 2
17.02.2019

سب سے پہلے تو میں اپنے خالقِ حقیقی کا شکر گزار ہوں کہ میرے دل سے نکلنے والی بات میرے ہم وطنوں کے دلوں میں اتر رہی ہے۔ اس کے بعد ان کرم فرمائوں کا دل کی گہرائیوں سے ممنون۔ جنہوں نے فون پر بات کی، ایس ایم ایس کیا اور فیس بک پر اظہارِ خیال کیا۔ درد دلوں میں اُتر رہا ہے۔

دیکھنا تقریر کی لذّت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

عمر کے اس حصّے میں یہی تسکین کا باعث ہوتا ہے کہ آپ کی بات دوسرے تک پہنچ جائے۔ سب پڑھنے والے دوبارہ تحریک پاکستان چلانے کے لیے تیار ہیں۔ سب اس بات سے بھی اتفاق کرتے ہیں کہ حکمرانوں اور قیادت کے دعویداروں کو اپنی ڈگر پر چلنے دیا جائے، ان سے اصلاحِ احوال کی امید نہ رکھی جائے کیونکہ ان میں سے بہت کم ہیں جو دوسروں کے بارے میں سوچتے ہوں۔ ہمیں تو یہ دیکھنا ہے کہ کیا ہم وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو ہمیں کرنا چاہئے۔ پہلے تو ہم میں سے ہر ایک کو یہ اعتماد ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم میں سے ہر ایک کو کسی خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے۔ ہم میں سے کوئی بھی غیر ضروری نہیں ہے۔ وقت کے ایک خاص نکتے پر ہم میں سے ہر ایک کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اس کردار کی حقیقت، ہیئت جاننا ہی زندگی کا مقصد ہونا چاہئے۔ جب ہم میں سے کوئی اپنی زندگی کا مقصد نہیں جان پاتا، اپنی اہمیت نہیں سمجھتا تو اس مقام پر ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے اور ترقی کا عمل رُک جاتا ہے۔

جو ذرہ جس جگہ ہے وہیں آفتاب ہے

پیچھے رہ جانے والی قوموں کا ایک المیہ یہ ہوتا ہے کہ فرد کو اپنی اہمیت سے بے خبر کر دیا جاتا ہے خاص طور پر جاگیردارانہ معاشروں میں اسے یہ........

© Daily Jang