We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہمارا ریڈیو پاکستان ہمیں واپس کرو

3 3 24
15.02.2019

پچھلے دنوں ریڈیو کا عالمی دن منایا گیا۔ جہاں کہیں اس دن کی بات ہوئی، یہی ہوئی کہ ریڈیو کے دن چلے گئے، یہ ٹیلی وژن کا زمانہ ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا نے ہلچل مچائی ہے اور اسمارٹ ٹیلی فون نے تو ساری دنیا اٹھا کر آپ کی ہتھیلی پر رکھ دی ہے۔ اس مجمع میں غریب ریڈیو کی سمائی کہاں ممکن۔ سچ ہے، اب تو ریڈیو کی یادیں ہی رہ گئی ہیں۔ کتنے ہی گھروں میں ریڈیو سیٹ ہی نہیں رہے۔ نئی نسل کو تو تفصیل سے بتانا پڑتا ہے کہ وہ ریڈیو کے دن کس غضب کے دن تھے، معاشرے میں سرگرم عمل رہنے والا وہ چھوٹا سا ٹرانزسٹر کیا دھوم مچاتا تھا کبھی۔ ایک وقت تو ایسا تھا کہ لوگوں کی شامیں کہنے کو لوگوں کی لیکن در حقیقت ریڈیو کی ہوا کرتی تھیں۔ ساری کی ساری یوں رخصت ہوئیں جیسے تماشا دکھا کر مداری گیا۔ کچھ دیوانے ہیں جو سال کے سال ریڈیو کا دن مناتے ہیں، کچھ تھوڑے سے احباب اکٹھے ہو جاتے ہیں اور ریڈیو کو یاد کر لیتے ہیں۔ وہ لوگ بڑے یقین سے کہتے ہیں کہ ریڈیو مر نہیں سکتا۔ یہ بڑا ہی سخت جان ہے، دیکھ لینا جی اٹھے گا۔ بات یہ بھی غلط نہیں۔ کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ وہ کیا شے تھی جس نے ریڈیو میں وہ روح پھونک رکھی تھی۔ پھر وہ قول یاد آتا ہے کہ میدان جنگ میں کمال بندوق کا نہیں، اسے تھامنے والے کا ہوتا ہے۔ کچھ یہی حال ریڈیو کا ہے۔ جب ریڈیو نیا نیا آیا تو عام لوگ سمجھتے تھے کہ اس کے اندر چھوٹے چھوٹے آدمی چھپے ہوئے ہیں۔ انہیں کیا پتہ کہ اس کے اندر بڑے بڑے لوگ ڈیرہ جمائے بیٹھے تھے، غضب........

© Daily Jang