We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

خبردار، چھت بہت بودی ہے

8 3 4
08.02.2019

ایک خبر ہے جو باقاعد گی سے ہر دوسرے تیسرے روز آتی ہے، آج پھر آئی ہے کہ کسی جگہ ایک مکان کی چھت گرنے سے کنبے کے افراد کچل کر مر گئے جن میں کئی بچے بھی شامل تھے۔ اس مضمون کی خبر آئے دن آتی ہے اور دل دکھاتی ہے۔ انسانی جان کا جانا لوگ سمجھتے ہیں معمول کی خبر ہے لیکن کبھی کسی واقعے کی جگہ خود کو رکھ کر دیکھیں تو اندر کہیں پھانس سی چبھتی ضرور ہے۔ میں اکثر سوچتا تھا کہ یہ واقعہ بار بار اور جگہ جگہ کیوں ہوتا ہے۔ پھر ادھر اندرون ملک سفر کرنے کا موقع ملا تو بات سمجھ میں آئی۔ وہ جسے لوگ مکان کہتے ہیں وہ ایک تنہا رہنے کا ٹھکانہ ہوتا ہے جسے ہم چاہیں تو کمرہ کہہ لیں۔ اسی میں اوڑھنا، اسی میں بچھونا یہاں تک کہ اسی ایک کوٹھڑی میں مرنا جینا۔ غریبوں، مفلسوں اور ناداروں کا وہی گھر ہوتا ہے اور وہی ان کی رہائش ہوتی ہے مگر اس کی خاص بات رہی جا رہی ہے وہ یہ کہ یہ لوگ اپنا وہ کمرہ کسی راج مزدور اور بڑھئی کاریگر کی خدمات حاصل کر کے نہیں بنواتے۔ ان میں نہ اتنی مالی سکت ہوتی ہے نہ وسائل کہ کسی تجربہ کار کو کام پر لگا کر رہنے کا معقول ٹھکانہ بنوالیں۔ یہ لوگ خود ہی پاس پڑوس یا عزیز رشتے داروں کو ساتھ لگا کر جیسی تیسی عمارت کھڑی کر کے اس میں رہنے لگتے ہیں۔ انہیں اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ اس طرح کی کاریگری کتنی بارشوں کا بوجھ اٹھا پائے گی۔ مجھے یاد ہے، ہم بچپن میں دیکھا کرتے........

© Daily Jang