We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

بھارت کا حادثاتی وزیراعظم

16 60 67
01.02.2019

کیا سیاست میں بھی حادثوں کی گنجائش ہوتی ہے؟ امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ کا خیال ہے، ہرگز نہیں۔ ان کے نزدیک سیاست میں کچھ بھی حادثاتی طور پر نہیں ہوتا بلکہ ہر چیز کی منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ منصوبہ بندی بھی بہت باریک بینی سے کی جاتی ہے لیکن سیاسی حادثات کی حقیقت تب تک نظروں سے اوجھل رہتی ہے جب تک کسی شریکِ جرم شخص کا ضمیر نہیں جاگ جاتا۔ بالعموم ایسے خوابیدہ ضمیر انتخابات کے قریب جھنجھوڑ کر جگائے جاتے ہیں تو تب بھی یہی تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ قلب و نظر کی یہ تبدیلی حقیقی اور فطری ہے۔ پاکستان میں تو یہ مرحلۂ شوق کئی ماہ قبل طے ہو چکا اور اب اس کے ثمرات اور فیوض و برکات سمیٹے جا رہے ہیں مگر بھارت میں چونکہ چند ماہ بعد لوک سبھا کے انتخابات ہونے ہیں، اس لئے وہاں حادثوں کی گنجائش بڑی حد تک موجود ہے اور شاید موقع کی نزاکت کے پیش نظر فلم ’’The Accidental Prime Minister‘‘ ریلیز کی گئی ہے۔ یہ فلم بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے سیاسی کردار اور کانگریس کے ساتھ ان کے ورکنگ ریلیشن شپ کا احاطہ کرتی ہے اور منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر سنجے بارو کی کتاب سے اخذ کی گئی ہے جو اسی نام سے 2014ء میں شائع ہوئی تھی۔ سنجے بارو جو 2004سے 2008ء تک بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے میڈیا ایڈوائزر رہے، انہوں نے اپنی اس کتاب میں منموہن سنگھ کو نہایت بے اختیار اور کٹھ پتلی وزیراعظم قرار دیا تھا، جنہیں ایک دن اچانک معلوم ہوا کہ انہیں وزیراعظم کا کردار ادا کرنا ہے۔

اس فلم میں منموہن........

© Daily Jang