We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

غلاموں کے غلاموں کا دور

6 5 15
20.01.2019

اُمیدیں اداروں سے رکھنی چاہئیں ۔ شخصیات سے نہیں۔

شخصیات فانی ہیں۔ ان کو کبھی نہ کبھی چلے جانا ہے۔ اگر وہ کوئی نظام قائم کرجائیں تو ان کے اچھے کاموں کو تسلسل مل جاتا ہے۔ ایک چیف جسٹس چلے گئے ۔ ایک آگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں ملک میں نظامِ عدل مضبوط بنیادوں پر استوار کرنے کی توفیق دے۔ بات کرنی ہے۔ آج غلامی کے تسلسل پر۔ اب بھی غلاموں کے غلاموں کا دَور جاری ہے۔ اور سب اس پر فخر بھی کرتے ہیں۔ مطمئن بھی ہیں۔ غلامی کی بہت سی اقسام تاریخ کے اوراق نے ہمیں دکھائی ہیں۔ یہ ساری اقسام کسی نہ کسی صورت پاکستان کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ غلامی کی بد ترین قسم وہ ہوتی ہے جب غلام اپنے آپ کو غلام نہیں آقا سمجھتے ہیں۔ لاشعوری طور پر کسی کی غلامی کی بیڑیاں پہنے ہوتے ہیں اور ان کی جھنکار میں مست رہتے ہیں۔

غیر ملکی استعمار کی غلامی میں مجبوری اور بے کسی کا شدید احساس ہوتا ہے۔ اس کے خلاف جدو جہد بھی کی جاتی ہے۔ اس میں باہر سے بھی مدد ملتی ہے۔ نو آزاد یا قطعی طور پر آزاد قومیں۔ مغلوب قوموں کی آزادی کی کوششوں میں مدد کرتی ہیں۔ جیسے ہم مظلوم کشمیریوں کی سفارتی اخلاقی اور سیاسی حمایت کررہے ہیں لیکن جب کوئی اپنوں کا ہی غلام ہوتا ہے تو یہ غیروں کی غلامی سے کہیں بد تر ہوتی ہے کیونکہ سب کسی نہ کسی کے غلام ہیں۔ طرفہ تماشا یہ کہ غلام آپس میں لڑتے بھی رہتے ہیں۔ جبکہ ان کے آقائوں کا آپس میں مضبوط اتحاد ہوتا ہے۔ صدیوں سے جاری غلامی کا یہ سلسلہ اطلاعات کی صدی کہلانے والی اکیسویں صدی میں بھی........

© Daily Jang