We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

چور دے پُترا ٹول بکس خالی اے

2 60 78
14.01.2019

ہم پاکستانی قصہ گوئی کے دلدادہ ہیں۔ بچپن میں بزرگوں سے جنوں اور پریوں کی کہانیاں سنتے ہیں، لڑکپن میں ٹارزن اور عمرو عیار کے کارنامے پڑھتے ہیں، میٹرک میں نسیم حجازی کے ناول اچھے لگتے ہیں اور پھر زندگی بھر جھوٹی سچی حکایتوں پر مبنی قصے کہانیاں تاریخ سمجھ کر سنتے رہتے ہیں۔ میں نے سوچا کیوں نہ آج ایک ایسی روداد بیان کی جائے جو حقیقت کے قریب ترین ہے۔ یہ کہانی ہے ایک ایسے ملک کی ہے جس پر بدعنوان حکمران مسلط تھے۔ یہ کرپٹ مافیا قومی خزانے اور وسائل کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف تھا۔ روزانہ کم از کم 7ارب روپے کرپشن کی نذر ہو رہے تھے۔ سالانہ 10ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو رہی تھی۔ عوام بیوقوفی کی حد تک سادہ تھے اس لئے رہزنوں کو رہبر سمجھ رکھا تھا۔ اس ناگفتہ بہ صورتحال میں قوم کے ’’بڑوں‘‘ نے کرپشن کا ڈھول بجا کر لوگوں کو ان حکمرانوں کا اصل چہرہ دکھانے کا فیصلہ کیا۔ ایک مسیحا اور نجات دہندہ جسے اَن پڑھ اور گنوار لوگ سنگریزہ سمجھ رہے تھے، اسے تراش خراش کر ہیرے کے روپ میں پیش کیا گیا تو سب کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ برس ہا برس سے مسلط ان بدعنوان حکمرانوں کو اقتدار سے الگ کرنا آسان تو نہ تھا مگر ’’بڑوں‘‘ نے ملک کے وسیع تر مفاد میں ساری توانائیاں لگا کر یہ کر دکھایا۔

تبدیلی کی صبح خوش جمالی کا سورج طلوع ہوا تو عوام کی خوشی دیدنی تھی۔ انہیں یقین تھا کہ اب چوروں، ڈاکوئوں اور لٹیروں کا سخت احتساب ہو گا۔ صادق و امین حکمرانوں کے تخت نشین ہونے سے بدعنوانی اور لوٹ مار کا قلع قمع ہو گا اور یوں ترقی و خوشحالی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو گا۔ بلاناغہ وہ........

© Daily Jang