We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

یہ کون سخی ہیں جن کے لہو کی اشرفیاں چھن چھن کر

12 7 55
11.01.2019

یہ کون لوگ ہیں۔ یہ جن میں سے اگر جو جاوداں ہیں وہ پون صدی کے لگ بھگ یا اس سے بھی زیادہ عمر کے ہیں۔ جاوداں اس لئے کہہ رہا ہوں ان کو کہ بقیدِ حیات تو ہم تم اور سبھی ہوتے ہیں۔ یہ لوگ سدا حیات بھی ہیں اور جاوداں بھی۔ یہ سداجوان بھی ہیں، جب بھی انقلابی جوانی آتی ہے روپ بدل کر واپس آتے ہیں۔ ڈاکٹر ادیب رضوی اور ڈاکٹر ہارون جیسے لوگ۔ یا پھر ڈاکٹر محمد سرور اورانکے جیسے کئی ساتھی۔ کامریڈ۔ یہ لوگ کل کی اور شاید پاکستان کی سب سے پہلی اور پرانی طلبہ تنظیم ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے جگریلے رہنما۔ بلکہ جگرسٹ۔ اسی ہفتے طلبہ کی ان قربانیوں کے دن تھے۔ سات اور آٹھ جنوری، انیس سو تریپن۔ جب کراچی کی سڑکیں نوآزاد مملکت خداداد کے دارالحکومت میں خون سے نہلائی گئی تھیں۔

یہ کون سخی ہیں جن کے لہو کی اشرفیاں چھن چھن کر

مندرجہ بالا نظم فیض صاحب نے لکھی تو ایرانی طلبہ کے نام تھی لیکن یہ ڈی ایس ایف کے ان تحریکی طلبہ پر بھی پوری اترتی ہے جنہوں نے اس دن لیلائے وطن کے عارضوں کو اپنے جوان و گرم لہو سے گلنار کیا تھا۔

پاکستان اس حساب اور حوالے سے بہت خوش نصیب ہے کہ جمہوریت کی بحالی کی دنیا میں مضبوط اور منظم تحریکیں بھی یہاں چلی ہیں تو طلبہ کسان مزدور تحریکیں بھی۔ نیز یہ سب کچھ پاکستان کے قیام کے چند سال میں ہی ممکن ہوا تھا جب کراچی سطح پر انٹر کا لج باڈیز بنی تھی اس سے قبل یا بعد میں طلبہ اور بیروزگار نوجوانوں نے اپنے حقوق کیلئے ایک طلبہ تنظیم ڈی ایس ایف........

© Daily Jang