We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ویران صحرا کی جیتی جاگتی داستانیں

18 3 33
11.01.2019

میں جو پاکستان کے وسیع علاقے دیکھ چکا ہوں، کوئی میری آنکھوں پر پٹی باندھ کراس علاقے میں لے جائے اور پٹی کھول کر پوچھے بتاؤ یہ کون سا علاقہ ہے تو میں نہیں بتا سکتا۔ یہ تھرپارکر ہے، سب سے الگ، سب سے جدا، نہ کوئی شناخت، نہ پہچان۔صدیوں سے الگ تھلگ تھا، کوئی اس کا پرسانِ حال نہ تھا۔خشک، اجاڑ، بے آب و گیاہ، نہ سبزہ، نہ رونق، بہار بھی نہیں، بس خزاں ہی خزاں۔ریت کے ٹیلے، کچھ نیچے، کچھ اونچے، کچھ زیادہ اونچے۔ان کے چپے چپے پر گڑھے سے، جیسے مویشیوں کے بیٹھنے کے ٹھکانے بنے ہوں۔جھاڑیوں کو اونچ نیچ کی پروا نہیں، وہ ہر جگہ بے دریغ اگی ہوئی لیکن ان میں تو ہریالی نام کو نہیں۔بالکل یوں لگیں جیسے سوکھی پڑی ہوں، جیسے ہوا چلے گی تو ان کے خشک پتّے سوکھے تنکوں کی طرح اُڑکر ہر جانب بکھر جائیں گے۔ ہاں، بیچ بیچ میں ذرا اونچے درخت جن کے سیدھے تنے کی اونچائی پر کچھ پتّے اور بس۔ اونچائی پر یوں کہ نیچے کے پتّے اونٹ کھاگئے، جتنی اونچائی تک اونٹوں کی گردن جاتی ہے اتنی بلندی پر پتّے ناپید۔نیچے سبز پودے بھی ہیں پر وہ جو انسان نے ہریالی کی خاطر لگائے ہیں۔ مگر علاقے میں آزاد گھومنے والے مویشی تو ان کو لمحہ بھر میں چٹ کرجائیں گے۔ ان کو کسی طرح ڈھانپ دیا گیا ہے۔سرکاری گاڑی آکر ان کو سینچ جاتی ہے ورنہ یہ زمین ان کو نہیں سہار سکتی۔مویشی کا تو یہ حال........

© Daily Jang