We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کاش ’’گڈوٹ‘‘ کبھی نہ آتا

8 16 11
07.01.2019

پاکستان کے سیاسی تھیٹر میں اُکتائے ہوئے تماشائیوں کی حالتِ زار دیکھتا ہوں تو مجھے غیر روایت پسند تحریک کے دوران لکھا گیا 20ویں صدی کا مقبول ترین ڈرامہ ’’ویٹنگ فار گڈوٹ (Waiting for Godot) یاد آتا ہے اور دل سے اِک ہوک سی اٹھتی ہے کہ کاش ’’گڈوٹ‘‘ کبھی نہ آتا۔ اس کا انتظار کرتے بیشک ہماری آنکھیں پتھرا جاتیں مگر کم ازکم امیدوں کے چراغ تو روشن رہتے۔ سیموئل بیکٹ زندہ ہوتا تو یقیناً پکار اٹھتا، گڈوٹ آنہیں رہا، گڈوٹ آچکا ہے مگر پھر اس کے بعد کیا ہوتا؟ فرانسیسی زبان میں لکھے گئے اس ڈرامے کا ترجمہ کئی زبانوں میں کیا جا چکا ہے اور شاید ہی کوئی دن ایسا ہو جب دنیا کے کسی نہ کسی کونے میں یہ ڈرامہ پیش نہ کیا جاتا ہو۔ یوں تو اس ڈرامے کے پانچ کردار ہیں مگر مرکزِ نگاہ محض دو لوگ ہی ہیں، جن میں سے ایک ولادی میر ہے جبکہ دوسرے کا نام ایسٹروجن ہے۔ یہ ڈرامہ دیکھ کر یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کے سیاسی حالات کی عکاسی کی گئی ہے۔ جس طرح ہمارے ہاں لوگوں کی یادداشت بہت کمزور ہے، بہت جلدی بھول جانے کی وبا عام ہے، تاریخ مسلسل دہرائے جانے سے گاہے یوں لگتا ہے جیسے ہم بحیثیت قوم دائروں کے سفر پر گامزن ہیں اور چند برس بعد پھر سے لوٹ کر وہاں آ جاتے ہیں جہاں سے سفر کا آغاز کیا تھا، اسی طرح سیموئل بیکٹ کے اس ڈرامے میں بھی تکرار بہت ہے۔ ایک ہی بات اتنی مرتبہ دہرائی جاتی ہے کہ بوریت محسوس ہونے لگتی ہے۔ ولادی میر اور ایسٹروجن ایسے باکمال کردار ہیں کہ کچھ دیر بعد یو ٹرن لیکر اپنی پوزیشن اور موقف بدل لیتے ہیں جس سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ان دونوں میں ایک دوسرے کی روح حلول کر گئی ہے۔ ان دونوں کی زندگی کا ایک ہی مقصد ہے، گڈوٹ کا........

© Daily Jang