We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کیا قیادت کا خلا پیدا ہورہا ہے؟

10 0 4
06.01.2019

الٹے ہور زمانے آئے، تاں میں بھیت سجن دے پائے

کاں لگڑاں نوں مارن لگے، چڑیاں جرے ڈھائے

گھوڑے چگن اوڑیاں تے گدوں خوید پوائے

اپنیاں وچ الفت ناہیں کی چاچے، کی تائے

پیو پتراں اتفاق نہ کوئی، دھیاں نال نہ مائے

سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، چوٹھے کول بہائے

اگلے ہو کنگالے بیٹھے، پچھلیاں فرش بچھائے

بھوریاں والے راجے کیتے، راجیاں بھیک منگائے

بْلھیا! حکم حضوروں آیا، تس نوں کون ہٹائے

بلّھے شاہ (1757ء)

’’مسلمانوں میں کسی قسم کا اتحاد موجود نہیں ہے۔ وہ فرقوں میں تقسیم ہوکر ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہیں۔ خود غرضی اور نفسا نفسی نے فرد کو ایک معاشرے سے الگ کر دیا ہے۔ فرد کی زندگی بے مقصد ہو چکی ہے۔ عدم تحفظ کے احساس نے سارے معاشرے کو اندر سے کمزور کر دیا ہے۔ ہر چیز ہر فعل اور ہر قدم بے یقینی کے جذبے پیدا کر رہا ہے۔ سفاکی اور بے اصولی نے تدبر اور اصولوں کی سچائیوں کو بے معنی بنا دیا ہے۔ وفاداری کا لفظ بے حرمت ہو چکا ہے‘‘۔

(شاہ عالم ثانی آفتاب۔ 1759ء تحقیق ڈاکٹر خاور جمیل)

آج اتوار ہے۔ آپ فرصت سے ہوں گے اور سمجھ ہی رہے ہوں گے کہ میں خود کو اور آپ کو 260سال پیچھے کیوں لے جا رہا ہوں۔ آپ درست کہہ رہے ہیں کہ ڈھائی سو سال پہلے کی باتیں نہیں، یہ تو آج کی باتیں ہیں۔ وہی سب کچھ ہو رہا ہے۔ کوّے عقابوں کو مار رہے ہیں۔ چڑیاں شاہین گرا رہی ہیں۔ گھوڑے کچرا کنڈیوں میں چر رہے ہیں۔ گدھے سبزہ زاروں میں عیش کر رہے ہیں۔ اپنوں میں محبت نہیں رہی۔ باپ بیٹوں میں اتفاق نہیں ہے۔ مائیں بیٹیوں کا ساتھ نہیں دے رہی ہیں۔ صادق دھکے کھا رہے ہیں۔ جھوٹے مسند نشیں........

© Daily Jang