We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سندھ مرکز چپقلش

6 9 54
05.01.2019

سندھ اور مرکز کے درمیان چپقلش کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا پیارا پاکستان۔ یہ کھینچاتانی تب ہی شروع ہوگئی تھی جب ایوب کھوڑو جیسا دبنگ منتظم سندھ کا وزیراعلیٰ تھا اور کراچی نو آزاد مملکت خداداد کا دارالحکومت۔ کراچی کو سندھ کے زیر انتظام دینے کی کھوڑو نے جب مخالفت کی تھی تو اسے اپنی وزارت اعلیٰ سے دستبردار ہونا پڑا تھا۔ تاریخی سندھ اسمبلی میں نشستوں پر براجمان اراکین(جن کی اکثریت کا تعلق میروں، پیروں، وڈیروں، سرداروں کے خانوادوں سے تھا)کاکام سندھی عوام دوست قانون سازی کے بجائے اسمبلی میں جماہیاں لینا اور ابھرتے سورج اور طاقت کوسلامی دینا ہوتا تھا۔ یہ لوگ کسی بھی وقت اپنی وفاداریاںقوتوں کے حق میں بدلنے سےدریغ نہیں کرتےتھے۔ چاہےاس سے سندھ یا اس کے غریب عوام کا کتنا ہی نقصان کیوں نہ ہو۔ آج بھی اس اسمبلی یا سندھ سے ملک کے بالا ایوانوں میں بعض وہی حضرات براجمان ہیں جن کے بزرگوں نے چارلس نیپیئر کے سندھ فتح کرنے پر اس کی کورنش بجالانے حیدرآباد کے دربار ہال میں جمع ہوئے تھے۔ چارلس نیپیئر سے ایوب خان ،یحییٰ خان،بھٹو اورضیاالحق سے زرداری تک ان خانوادوں سے لوگ منتخب ہوکر ایوانوں اور اقتدار کے سنگھاسنوں تک پہنچتے رہے ہیں۔ دوسرے صوبوں میں بھی صورتحال کوئی زیادہ بہتر نہیں ہوگی۔ماضی میں جنوبی پنجاب اور بلوچستان کے سردار سبّی کے میلے میں اپنے ہاتھوں سے انگریز بہادر کی بگھیاںکھینچ رہےہوتے تھے۔ان سرداروں کے برخوردار پھر ریاست کے بڑے ایوانوں تک بھی جا پہنچے۔ کسی نے سندھ کے ایسے ہی موسمی........

© Daily Jang