We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

سیاسی انتقام کسی کے مفاد میں نہیں

8 6 53
02.01.2019

پاکستان کی سیاست میں میاں نوازشریف کو مقدرکا سکندر کہا جاسکتا ہے۔ وہ ایک بار پنجاب کے وزیر خزانہ، دو مرتبہ وزیراعلیٰ اور تین مرتبہ وزارت عظمیٰ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں۔ نواز شریف اقتدار کے جس نشیب و فراز سے گزرے، شاید ہی کوئی دوسرا سیاستدان گزرا ہو۔ 1999ء میں جنرل پرویز مشرف نے اُن کی حکومت کا تختہ اُلٹ کر اُنہیں اٹک قلعہ میں قید رکھا، عمر قید سنائی، 21سال کیلئے نااہل کیا، ان کی جائیدادیں ضبط کرلی گئیں ، نواز شریف نے ایک عشرے سے زیادہ جدہ اور لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزاری۔ یہ وہ وقت تھا جب وہ اور اُن کی پارٹی شدید مشکلات سے دوچار تھی اور مخالفین یہ پیش گوئیاں کررہے تھے کہ اُن کی پارٹی ہمیشہ کیلئے ختم ہوگئی مگر پھر دنیا نے دیکھا کہ وہ پوری طاقت سے واپس آئے ۔ وہ تیسری بار ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے اور اپنے دور حکومت میں ملک میں پھیلی دہشت گردی اور لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا، موٹر ویز اور انفرااسٹرکچر کا جال بچھایا اور خصوصاً کراچی میں امن و امان بحال کیا جس سے ملکی معیشت میں بہتری آئی اور 13سال میں پہلی بار ملکی جی ڈی پی گروتھ 5.8 تک جاپہنچی۔ اگر یہ کارکردگی کسی دوسرے ملک میں کسی شخص نے انجام دی ہوتی تو یقینا اُسے ہیرو کا درجہ دیا جاتا مگر پاکستان کی سیاست بڑی غیر یقینی اور ظالم ہے ۔ وہ ستمبر 2017ء سے اب تک تقریباً 165 مرتبہ عدالتوں کے چکر لگاچکے ہیں جبکہ اس اثناء میں اُنہیں جیل میں رہتے ہوئے اپنی اہلیہ کی........

© Daily Jang