We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اس سے پہلے کہ لوگ آپ سے بھی اکتا جائیں

9 5 41
30.12.2018

نگاہ جدھر بھی دوڑائیں۔ کھانا پینا ہی نظر آتا ہے۔ بین الاقوامی سلسلے ہوں۔ قومی ریستوران۔ دیسی کھانے ۔ کڑاہی۔ ہانڈی۔ کوئلہ۔ ساری تخلیقی صلاحیتیں۔ تعریفی جملے۔ سب چٹ پٹے کھانوں کے لئے استعمال کیے جارہے ہیں۔ چینلوں پر کھانے کی تراکیب اور نسخے بہت غور سے دیکھے اور سنے جاتے ہیں۔ میں تو سوچتا ہوں کہ پاکستان شاید کھانے پینے کے لئے ہی بنایا گیا تھا۔ اسی فن میں ہم نقطۂ عروج پر ہیں۔ کتابوں کی دکانیںبند ہورہی ہیں۔ غیر ملکی کھانوں کے شوروم بڑے بڑے کھل رہے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ یہ سارے مہنگے مہنگے ہوٹل ریستوران بھی بھرے رہتے ہیں۔ اور عوامی ڈھابوں۔ ریڑھیوں۔ پر بھی اسی طرح رش رہتا ہے۔ گھر سے کھانے بھی پیک ہوکرفروخت کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ خوش خبری یہ ہے کہ سی پیک کی وجہ سے چینی بھائی بہنیں تو آہی رہے ہیں ان کے ساتھ اب دوسرے ملکوں کے کاریگر۔ ٹیکنیشن بھی آرہے ہیں۔ان کے لئے کھانوں کا بندوبست بھی کمائی کا سر چشمہ بن رہا ہے۔ شاید غیر منقسم ہندوستان میں ہم کھل کر نہیں کھا سکتے تھے۔ اپنی جائز اور ناجائز کمائی فراخدلی سے کھانے پینے پر صَرف نہیں کرسکتے تھے۔ اس لئے ہم نے الگ ملک حاصل کیا۔ اسی لئے دارُالکتاب کی جگہ دارُالکباب قائم کیے جارہے ہیں۔ ریستورانوں میں جاکر دیکھ لیں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ یہ ملک غریب ہے۔ ہزاروں ارب کے قرضے چڑھے ہوئے ہیں۔

ویسے بھی ہم فخر سے کہا کرتے تھے موصوف کھاتے پیتے گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض ہستیاں ایسی آئیں کہ ان سے متعلق کہا گیا وہ پیتے پیتے گھرانے کے چشم و چراغ ہیں۔

آج کل کھاتے پیتے گھرانوں کی خبریں ہی بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔ شیر پنجروں میں جارہے ہیں۔تیروں پر ملکی سرحدیں پار کرنے پر پابندی لگ رہی ہے۔وقت کے حاکم........

© Daily Jang