We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

اٹھو رندو پیو جام قلندر

7 10 224
20.12.2018

’’تمہیں پتہ ہے کہ یہ کس کی شاعری ہے؟‘‘کئی دن ہوئے میرے دوست نے پوچھا تھا۔

اس نے مجھے بتایا تھا کہ کیا کمال کی شاعری ہے جو پہلی بار اس نے اپنے گائوں اوکاڑہ میں اپنی گلی میں جاتے کسی بچے کی آواز میں سنی تھی۔ پھر اس دن میرا دوست بہت دُکھی تھا جب قلندر لال شہباز قلندر کی درگاہ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ اس وقت جب عشا کی نماز کے بعد درگاہ کے آنگن میں دھمال ہو رہی تھی۔

’’طلوع سحر ہے شام قلندر‘‘

کچھ دن کشت و خون میں لتھڑی لاشوں کو اٹھاتے گزرے اور پھر وہی دھمالیں تھیں اور رقص درویشاں۔ ہماری شیما کرمانی بھی کئی اپنے ساتھیوں عورتوں مردوں بچوں بچیوں شاگردوں کے ساتھ وہاں پہنچی تھیں:

’’چار چراغ تیرے بلن ہمیشہ

پنجواں بالن آئی آں میں جھولے لالن‘‘۔

پھر وہی دھمالیں جن کے نقاروں اور نوبتوں میں دھماکوں کی دہشت ماند پڑ گئی۔ قلندر اور اس کے دیوانے ہر شام طلوع ہو رہے تھے اور دہشت اور نفرت پھیلانے والے روبہ زوال۔ لیکن ان پڑھ باشعور عورتوں نے سیہون میں دھمال کیا ڈالی۔

پھر دو رات قبل میرے دوست نے مجھ سے کہا اس نے کراچی کے پوش علاقے میں اپنےپڑوس میں ایک گھر سے کہیں فنکشن سے آدھی رات گئے ہوتی قوالی میں سے یہ منقبت پھر سنی ہے۔’’اٹھو رندو پیو جام قلندر‘‘۔ میں........

© Daily Jang