We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ملتان میں نثر کے نام پر بڑا مجمع

3 3 10
14.12.2018

ملتان کی گرمی تو بارہا دیکھی تھی، اب کے ملتان کی گرمجوشی دیکھی۔ لوگ گانے بجانے کے نام پر جمع ہوجاتے ہیں لیکن ادب، تہذیب اور تمدن کی خاطر اتنے لوگوں کا اکٹھا ہونا حیران کرتا ہے۔ شہر میں ایک نوجوان قانون داں کی لکھی ہوئی کتاب کی رسمِ اجرا تھی۔وہیں کسی بھلے شخص نے صحافیوں، ادیبوں اور شاعروں کی خاطر اچھے دنوں میں ایک بیٹھنے کا ٹھکانا بنا دیا تھا جو ملتان ٹی ہاؤس کہلاتا ہے۔ اسکے کشادہ ہال میں کتاب کا تعارف کرایا جارہا تھا۔ کئی روز سے میڈیا پر اسکی تشہیر ہورہی تھی۔اعلان سے میرا نام بھی نتھی تھا۔کچھ کتاب کی کشش تھی، کچھ مصنف سے مراسم کا کمال تھا اور کچھ میرے احباب یہ دیکھنے آئے کہ ریڈیو پر کم و بیش تیس برس لگانے والا شخص کیسا ہے۔غرض یہ کہ خوب رونق رہی۔

قیصر عباس صابرملتان کے ادبی حلقوں میں خوب جانے پہچانے ہیں۔ان کی لکھی ہوئی کتابوں کی تعداد درجن بھر ہوا چاہتی ہے۔ ہرچند کہ عدالت کچہری کے آدمی ہیں اور ہر وقت سائلین کے مسائل سلجھاتے نظر آتے ہیں لیکن ذوق اور طرح کا پایا ہے۔ شعر بھی کہتے ہیں۔ملکی حالات پر بھی نگاہ ہے۔دو ایک شخصیتوں کی سوانح بھی لکھی ہے لیکن قیصر عباس کا اصل کمال ان کا جہاں بینی کا شوق ہے۔جن پہاڑوں، وادیوں، دریاؤں، جھیلوں اور جھرنوں کا ہم دور سے نظارہ کرتے رہ جاتے ہیں،قیصر عباس دشوار راستوں کو پھلانگتے، ناہموار پہاڑی راستے طے کرتے ہوئے اُن منظروںکے درمیان جا پہنچتے ہیں۔یہ سوچ کر رشک آتا ہے کہ وہ قدرت کے ان حسین نظاروں کے اندر اتر جاتے ہیں، ان کا مشاہدہ کرتے........

© Daily Jang