We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

تھر میں خود کشیاں

8 2 6
13.12.2018

تھر ہو کہ چولستان یہ پاکستان کے وہ علاقے ہیں جن میں رہنے والوںکوملک کے اکثر لوگ اپنے سوتیلے بہن بھائی بھی نہیں مانتے۔ میں جب تھر یا چولستان کہتا ہوں تو اس سے میری مراد ہٹے کٹے تازے تنومند وڈیرے، جاگیردار، پٹیل، مہر جی اور میاں، ارباب، سیٹھ، جام نہیں ہیں بلکہ وہ مسکین عوام ہیں جنہیں شاہ لطیف بھٹائی نے مارو کہا تھا۔ مارئی کے مارو۔ اور مارئی کا ملک ملیر۔

سندھ کی طرح تھر بھی دو ہیں۔ ایک وہ تھر جس کی آپ دیدہ زیب پنوں پر رنگین تصاویر، سرکاری سیاحت کے اشتہاروں، بڑے بڑے پروجیکٹوں (جو پروجیکٹ زیادہ تر کاغذوں پر اور باقی تھر کے ماحول کی تباہی کے لئے بنے ہونگے)، یا پھر ٹیلیفون موبائل کمپنیوں کے آسمان سے باتیں کرتے ٹاورز پر یا زیادہ سے زیادہ اس پکے روڈ پر ملیں گی جو زیادہ تر اربابوں یا ملانیوں کے گھروں تک جا ملتےہیں ۔ دوسرا تھر وہ ہے جو اس مشہور گڈی بھٹ ( مٹھی شہر کے پاس ریت کا ایک بڑا تفریحی ٹیلا) کے اس پار یا کوئلے کی کانوں کے اس طرف ملےگا۔ اور یہ وہ تھر ہے جسں کے لوگ خاص طورپر عورتیں خودکشیاں کر رہی ہیں۔ خود کشی کی خبر نہیں بنتی بچوں کی اموات خبر بنتی ہے وہ بھی جب ڈاکٹروں اور صحافیوں کے مال یا پانی پر جھگڑے ہوتے ہیں۔ تھر میں خودکشیاں بالکل ایسے ہورہی ہیں جیسے ماضی قریب میں بھارت میں کسان کر رہے تھے۔ فرق صرف یہ تھا کہ وہاں انوشا رضوی جیسی فلمساز تھی جس نے اس المیے پر طربیہ فلم’’پیپلی........

© Daily Jang