We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کیا پاکستان پیپلز پارٹی مرچکی؟

6 7 66
06.12.2018

کس نے جانا تھا کہ آج سے 51سال قبل جس پارٹی کا پہلا کنونشن بھٹو نے لاہور میں ڈاکٹر مبشر حسن کے گھر پر ایوبی آمریت اور اسکے سیاسی حواریوں کی سرکاری کنونشن مسلم لیگ کے خلاف برپا کیا تھا،اس پارٹی کا حال نصف صدی تک پہنچتے پہنچتے خود کنونشن مسلم لیگ کی سیاست سے زیادہ مختلف نہیں ہوگا۔یہ وہ پارٹی ہے جسے ہمیشہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ اور اینٹی اسٹیٹس کو پارٹی سمجھا جاتا رہا تھا اور بہت سارے معاملات میں ماضی قریب تک تھی بھی۔

گزشتہ ماہ کی تیس تاریخ کو ذوالفقار علی بھٹو کی اس پارٹی کا یوم تاسیس تھا جو کسی دھام دھوم کےبغیر گزر گیا۔ گزر تو اس ملک میں اس پارٹی اسکی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ بھی بہت کچھ گیا ہے۔ اتنا بہت کچھ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ پارٹی بھی گزر جانے تک آ پہنچی ہے۔ لیکن بہت سوں کا خیال ہے کہ پیپلزپارٹی مرا نہیں کرتی۔ میرا بھی آج کا سوال یہی ہے کہ کیا پاکستان پیپلزپارٹی مر چکی؟

میرے دوست اور شاعر مسعود منور کا خیال ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی اس دن مر گئی تھی جب اسکے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی گئی تھی۔ مسعود منور جنہوں نے بھٹو کی پھانسی والی رات پر لکھا تھا:

’’رات کے دو بجے تم سبھی سو چکے تھے مگر وہ ابھی جاگتا تھا‘‘۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں یہ وہ پارٹی تھی جسے بھٹوئوں اور انکے جیالوں نے واقعی اپنے خون سے سینچا تھا۔ جیالے جنہیں میں نے اپنے سروں کے چراغ جلاتے ہوئے جیالے کہا تھا۔مسعود منور کا خیال ہے کہ بھٹو کی پارٹی کا زیادہ تر خاتمہ اسکی بیٹی کے ہاتھوں ہی ہوا جب بھٹو کی پھانسی کے بعد بینظیر........

© Daily Jang