We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

شاعری کا زور ہے، نثر کا کیا بنے گا؟

5 3 14
30.11.2018

ہر جانب مشاعروں کا زور ہے۔ دور دور کے ملکوں میں، دور دراز شہروں، قصبوں اور دیہات میں مشاعرے ہو رہے ہیں۔کیسی اچھی بات ہے کہ اسی بہانے اردو زبان کا بھلا ہورہا ہے۔ لکھی جارہی ہے، سنی اور سنائی جارہی ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ سراہی جا رہی ہے۔ زبان سے متعلق کوئی بھی تقریب کامیاب نہیں ہوتی جب تک ایک عدد مشاعرہ اس سے نتھی نہ ہو۔ان ہی مشاعروں کی برکت ہے کہ کتنے ہی شاعروں کو فرصت نہیں، جب دیکھئے وہ ملکوں ملکوں نظر آتے ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ہندوستان پاکستان میں مشاعروں کی اتنی ریل پیل نہیں جتنی دوسرے ملکوں میں ہے۔ ایک زمانے میں ہمارے نہایت معتبر شاعر حمایت علی شاعر کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ ان کا پاسپورٹ دنیا بھر کے ملکوں کی مہروں سے بھر چکا ہے۔ ایک بار ہمارے دوست مجیب صدیقی جنوبی افریقہ گئے وہاں کے کھاتے پیتے لوگوں نے،جن میں اکثر کی زبان گجراتی تھی، ان سے کہا کہ پاکستان سے کسی شاعر کو بلاؤ اور جنوبی افریقہ میں مشاعرہ کراؤ۔ شرط یہ تھی کے شاعر سریلا ہو، اچھا گاتا ہو۔ چنانچہ محترم پیر زادہ قاسم بلائے گئے۔اب مسئلہ یہ تھا کہ ایک تنہا شاعر کا مشاعرہ کیا اچھا لگے گا۔ کم سے کم ایک شاعر اور ہونا چاہئے۔ بہت ڈھونڈا گیا، دوسرا شاعر نہیں ملا۔مجبوراً مجیب صدیقی نے رات کے دوران ٹہل ٹہل کر دو تین غزلیں کہیں۔ اب سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ جو اشعار بلبل کے نالوں کے پس منظر میں کہے........

© Daily Jang