We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہم مستقبل میں کھلی آنکھوں سے داخل ہورہے ہیں؟

6 2 16
29.11.2018

People blind to past enter the future blindly

غور کیجئے ۔ لوگ جو اپنے ماضی کیلئے آنکھیں بند رکھتے ہیں۔ وہ مستقبل میں بھی بند آنکھوں کے ساتھ داخل ہوتے ہیں۔ کسی مغربی اسکالر کا یہ جملہ کوئٹہ سے ممتاز مصنّف ایوب بلوچ نے وٹس ایپ کیا ہے۔ میں اسے ہر محفل میں دہرارہا ہوں۔ ہم اکیسویں صدی میں بند آنکھوں کیساتھ ہی داخل ہوئے ہیں۔ سندھ پبلک لائبریری کراچی میں پروفیسر اعجاز قریشی کی بہت ہی اہم تصنیف ’’ون یونٹ اور سندھ‘‘ کی رونمائی ہوئی۔ وہاں بھی میں نے اپنے مضمون کا آغاز اسی قول زریں سے کیا۔ یہ کتاب ون یونٹ کے خلاف سندھ کے عوام دانشوروں اور بالخصوص طلبہ کی پُر جوش اور نتیجہ خیز جدو جہد کی دستاویز ہے۔سندھی میں لکھی گئی اس کتاب کے اُردو ترجمے کی رُونمائی تھی جو اسلم کھٹیان نے کیا ہے۔ اس جدوجہد کے نوجوان۔ اعجاز قریشی۔ امان اللہ شیخ۔ ڈاکٹر سلمان شیخ۔ اقبال ترین۔اب سفید بالوں کے ساتھ یہاں موجود تھے۔ بزرگی طاری ہورہی ہے۔ مگر جذبات اورعزائم اسی طرح جوان ہیں۔ اور سندھ کے مسائل بھی اسی طرح جوان ہیں۔ صوبائی خود مختاری اور سندھی حکمرانوں کے کئی برسوں کے باوجود سندھ اسی طرح محرومیوں اور نا انصافیوں کا شکار ہے۔

گزشتہ تحریر میں ہم نے شاندار اُردو کانفرنسوں اور شہر شہرہونے والے ادبی میلوں کے حوالے سے اپنا دُکھ بیان کیا تھا کہ بھرپور محنت۔ کثیر سرمائے کے باوجود یہ تقریبات ادبی تحریکوں کا سر آغاز کیوں نہیں بنتیں۔ ان کی بدولت ادبی رسائل کے مسائل کیوں حل نہیں ہوتے۔ کتابوں کی اشاعت میں اضافہ کیوں نہیں ہوتا۔ معاشرے میں ابتری تذبذب اور بے یقینی کیوں ہے۔ بعض احباب نے توجہ دلائی کہ صرف ادبی اجتماعات کو ہی پیش نظر نہ رکھیں۔ مذہبی کانفرنسیں بھی بہت ہورہی ہیں۔........

© Daily Jang