menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

احسن اقبال

26 0
04.10.2026

عمران خان آج پاکستان سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں قانون کی حکمرانی کا علم بردار اور سویلین بالادستی کاچیمپئن تسلیم کیاجائے۔ یہ دعویٰ ایک ایسے شخص کی جانب سے سامنے آ رہا ہے جسکی سیاست ایک سادہ سے اصول پر استوار رہی ہے۔ ادارے اس وقت مقدس ہیںجب تک وہ اسکے مفادات کی خدمت کریں، اور جب ایسا نہ کریں تو وہ ناجائز قرار پاتے ہیں۔ اقتدار سے نکلنے کے بعد عمران خان کو آئین کا وجود معلوم نہیں ہوا۔ انہیں صرف یہ معلوم ہوا کہ اب وہ انکے حق میں استعمال نہیں ہو رہا۔ اصول کی اصل آزمائش تب ہوتی ہے جب اس پر قائم رہنے کی قیمت ادا کرنا پڑے۔ کیا عمران خان نے آئینی عمل کا احترام اس وقت بھی کیا جب وہ انکے مخالفین کے حق میں تھا؟ کیا انہوں نے عدالتوں کی آزادی کا دفاع اس وقت بھی کیا جب انکے فیصلے انہیں ناگوار گزرے؟ کیا انہوں نے غیر منتخب اداروں کو سیاست سے دور رکھنے کی کوشش اس وقت بھی کی جب انہی اداروں کی مدد انہیں اقتدار میں برقرار رکھ رہی تھی؟ کیا انہوں نے قانون کے سامنے سر تسلیم خم کیا جب وہ انکے اپنے دروازے پر پہنچا؟ ان کاریکارڈ ہر سوال کا ایک ہی جواب دیتاہےکہ آج ایک معیار کی تلقین کرنیوالے شخص نے خود ہمیشہ دوسرا معیار اختیار کیا۔

2014 میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پارلیمانی اکثریت کیساتھ اقتدار سنبھالے بمشکل ایک سال گزرا تھا کہ عمران خان اسلام آباد میں کئی ماہ پر محیط دھرنالے آئے۔ احتجاج ہر جماعت کا حق ہے، مگر انکا مطالبہ کسی جمہوری طریقۂ کار کے مطابق مسئلے کا حل نہیں تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک منتخب وزیراعظم پارلیمان میں اعتماد کھوئے بغیر مستعفی ہو جائیں۔ وہ یہ اشارہ دے رہے تھے کہ انہیں کسی غیر منتخب قوت سے توقع ہے کہ وہ انکی خاطر منتخب حکومت کا خاتمہ کر دے گی۔عوامی مینڈیٹ کیخلاف یہ مہم جاری رہی۔ 2017ء میں، جب ملک وژن 2025ء کے تحت ترقی کی راہ پر گامزن تھا، نواز شریف کی نااہلی ایک ایسے عدالتی شب خون کے طور پر پہچانی جاتی ہے جس نے پاکستان کو بحرانوں کے ایک لامتناہی سلسلے میں دھکیل دیا۔ عمران خان اسکے سب سے پُرجوش حامی، شریکِ کار اور سب سے بڑے فائدہ اٹھانیوالے تھے۔ اسکے بعد2018ءکے انتخابات مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں پر دباؤ اور انتخابی نتائج میں ردوبدل کے ناقابلِ تردید الزامات کے سائے میں منعقد ہوئے۔ آج سیاسی انجینئرنگ کا سب سے بڑا مخالف بنا کر پیش کیے جانیوالے سیاستدان کو ایک ایسے انتخابی میدان سے اقتدار تک پہنچایا گیا جسکی شفافیت اور ساکھ شدید متنازع ہے۔ اقتدار میں آ کر عمران خان پارلیمان کو مضبوط کر سکتے تھے۔ انہوں نے اسکے برعکس راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے غیر منتخب اداروں کو اپنے سیاسی ایجنڈے کیلئے بھرپور استعمال کیا۔ انکے عملی طرزِ سیاست میں سویلین بالادستی کا مطلب اداروں کی پشت پناہی کیساتھ صرف اپنی بالادستی کو دوام دینا تھا۔2019ء میں انکی حکومت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو مدتِ ملازمت میں توسیع دی اور اسے قانونی تحفظ دینے کیلئے پارلیمان سے قانون سازی کرائی۔ تین سال کے اندر ہی عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کا ذمہ دار اسی جنرل کو ٹھہرا رہے تھے اور توسیع کو غلطی قرار دے رہے تھے۔ جب اپوزیشن رہنما سیاست میں فوجی مداخلت پر تنقید کرتے تھے تو عمران خان انہیں غدار قرار دیتے تھے۔ لیکن مارچ 2022ء میں، جب اسٹیبلشمنٹ نے تحریکِ عدم اعتماد کے معاملے میں غیر جانبدار رہنے کا اعلان کیا، تو انہوں نے غیر جانبداری ہی کا مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ جلسوں میں وہ کہتے تھے کہ صرف جانور نیوٹرل ہوتا ہے کیونکہ جانور اچھائی اور برائی میں فرق نہیں کر سکتا۔ ایک جملے میں........

© Daily Jang