menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سہیل وڑائچ

33 0
04.10.2026

ملک پاکستان کے بارے میں، کوئی 25سال پہلے ، یاس کا رویہ چھوڑ کر آس پر انحصار شروع کر دیا تھا ۔میں ہرجائی نہیں رجائی ہوں ،میں کیچڑ میں کنول ڈھونڈتا رہتا ہوں، گھپ اندھیرے میں جب ہر کوئی اندھیرے کی برائیاں بیان کر رہا ہوتا ہے میں اس چراغ کو ڈھونڈھ رہا ہوتا ہوں جو جونہی جلے گا اندھیرا ختم ہو جائیگا۔ ہر طرف چر چا ہے کہ سب کچھ ٹوٹ رہا ہے مگر اس ٹوٹ کے اندر کچھ نیا بھی بن رہا ہوتا ہے۔ کیچڑ میں کنول ڈھونڈنا عادت بھی ہو سکتی ہے، اسے حقائق سے آنکھیں چرانے کا نام بھی دیا جا سکتا ہے اور یہ الزام بھی لگ سکتا ہے کہ آپ کیوں سیاہ کو سفید کرکے دکھانا چاہتے ہیں؟

جب کبھی یہ موضوع زیر بحث آتا ہے اور لوگ ملک و سماج کی تباہی اور سب کچھ ٹوٹنے اور اندھیرے کی دلیل دے رہے ہوتے ہیں میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے ہر فرد اور ہر گھرانے نے پچھلے 25سال میں اس گھٹا ٹوپ اندھیرے، اس ٹوٹ پھوٹ اور کیچڑ میں معاشی بہتری دیکھی ہے ہر فرد اور گھرانے کے معیار زندگی میں بہتری آئی ہے، اگر کوئی سائیکل سوار تھا تو موٹر سائیکل پر آگیا ہے، اگر ہفتے میں ایک دن گوشت کھاتا تھا تو اب 3دن کھاتا ہے، اگر ایک جوڑا کپڑے موجود تھے تو اب 7مختلف رنگوں کے لباس موجود ہیں۔ پہلے گرمیاں درختوں کے سائے میں گزارتا تھا تو اب اے سی میں بیٹھتا ہے۔ پاکستان بنا تو ایک یونیورسٹی تھی اب 400ہیں، پہلے خواتین کی شرح خواندگی ایک فیصد تھی اب یونیورسٹیوں میں لڑکیاں زیادہ ہیں۔ میرا ماننا ہے کہ بے شک معاشرے میںسوبرائیاں ہیں مگر غیر محسوس طریقے سے ہم پھر بھی آگے بڑھ رہے ہیں، سماج جہاں25سال پہلے تھا اب اس سے آگے بڑھ چکا ہے۔

ہرخطے کے انسان اپنے ماحول، جغرافیہ اور تاریخ سے متاثر ہوتے ہیں انسان کی جنیاتی ساخت میں تبدیلی اور سوچ بھی ان عناصر سے جڑی ہوتی ہے۔ ہم غم، دکھ،تکلیف، ہجر اور مایوسی کے میدان کے ماہر ہیں موت کو جس طرح ہم منانے کا فن جانتے ہیں شاید ہی کوئی جانتا ہو۔ امریکہ میں آئے روز طوفان،بارشیں اور قدرتی آفات آتی رہتی ہیں ہم پر کچھ غیر معمولی گزر جائے توہم لوک داستانوں میں اسے برسوں یاد کرکے روتے ہیں۔ ہماری مجموعی سوچ میں خوشی،امید، سکھ اور توقعات کادنیا کے باقی انسانوں کی نسبت بہت کم دخل ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمیں لگتا ہے کہ ہم دنیا میں سب سے برے ہیں، ہمارے حکمران ظالم ترین ہیں، ہمارا معاشرہ کبھی ٹھیک نہیں ہوسکتا، سیاستدان دنیا کے کرپٹ ترین لوگ ہیں، سارےصحافی بکے ہوئے ہیں۔ مایوسی کے تڑکے نے ہمارے اردگرد پھیلے کیچڑ کو دلدل بنادیا ہے جس میں آس کی جگہ یاس معاشرتی سکہ رائج الوقت بن گیا ہے۔ مگر کیچڑ میں کنول نہ دیکھے جائیں تو ذہنی سکون،قومی استحکام اورملکی مستقبل سب گڈمڈ ہوجاتے ہیں، آئیے اندھیروںمیں چراغ اور کیچڑ میں کنول کہانیاں تلاش کریں۔

ہمای اجتماعی یادداشت میں پی آئی اے دنیا کی بہترین فضائی سروس کے طور پر محفوظ ہے اسلئے پی آئی اے کا زوال اور اسکی خرابیاں قومی مباحث کا حصہ اور اخبارات وٹی وی کی شہ سرخیاں بنتی رہی ہیں اور اب بھی بنتی رہیں گی۔ پی آئی اے کی اصل خرابی اسکا سرکاری ماڈل تھا۔ دنیا میں اب سرکار کا بزنس اور بالخصوص فضائی کمپنی چلانا منافع بخش نہیں رہا۔ صرف پی آئی اے پر زوال نہیں آیا اسی طرح کے سرکاری ماڈل کے تحت چلنے والی ائیرانڈیا اور برٹش ائیرویز پربھی یہی زوال آیا۔ برطانیہ اور بھارت نے اپنی جہازی کمپنی کو پرائیوٹائز کیا تو وہ چل پڑیں پاکستان نے تاخیر سے ہی سہی اس کامیاب ماڈل کی پیروی کی ہے اسکے مثبت نتائج بھی آئیں گے لیکن لوگ چاہتے ہیں........

© Daily Jang