ڈاکٹر ندیم جان
پاکستان میں انتظامی ڈھانچے کی ازسرِنو تشکیل پر جاری بحث دراصل ایک بڑے سوال کا موقع فراہم کرتی ہے: کیا ہمیں صرف نئے صوبے بنانے چا ہئیں یا ایسا حکومتی نظام تشکیل دینا چاہئے جو واقعی عوام کے قریب ہو، مقامی مسائل کو بہتر طور پر سمجھے اور انکے حل کیلئے اختیار اور وسائل بھی رکھتا ہو؟میرے نزدیک پاکستان کو لازماً مزید صوبوں کی ضرورت نہیں بلکہ اسے زیادہ مؤثر، بااختیار اور جمہوری طور پر جواب دہ انتظامی مراکز کی ضرورت ہے۔ اسی مقصد کیلئے موجودہ انتظامی ڈویژنز میں سے موزوں اکائیوں کو خودمختار انتظامی خطوں (Autonomous Administrative Regions - AARs) میں تبدیل کرنے کا تصور قابلِ غور ہے۔ AARکوئی نیا صوبہ یا ایک اور بھاری بھرکم بیوروکریسی نہیں ہوگا۔ یہ ایک بااختیار علاقائی انتظامی و ترقیاتی حکومت ہوگی، جسکے واضح اختیارات، مخصوص بجٹ، پیشہ ورانہ انتظامیہ، منتخب قیادت اور قابلِ پیمائش اہداف ہوں گے۔ اس پورے تصور کی بنیاد ایک سادہ اصول پر ہونی چاہیے:”جو حکومت شہری کے مسائل کے جتنی قریب ہو، اسے ان مسائل کے حل کیلئے اتنا ہی اختیار اور وسائل حاصل ہونے چاہئیں۔“ حکومت کی نئی ساخت: پاکستان میں حکومت کا انتظامی ڈھانچہ وفاق، صوبہ، علاقہ، ضلع اور بلدیہ کی سطح پر منظم کیا جا سکتا ہے:وفاق ۔ صوبہ۔ علاقائی حکومت (AAR) - ضلع- تحصیل / بلدیہ ۔ وفاق دفاع، خارجہ امور، کرنسی، قومی مالیاتی و معاشی پالیسی، قومی ٹیکس، اسٹرٹیجک انفراسٹرکچر اور قومی معیارات جیسے معاملات سنبھالے۔ صوبے قانون سازی، پالیسی، ریگولیشن، معیارات، صوبائی ٹیکس اور مساویانہ وسائل کی تقسیم کے ذمہ دار ہوں۔AARs علاقائی معاشی ترقی، سرمایہ کاری، انفراسٹرکچر، ثانوی صحت و تعلیم، ہنرمندی، زراعت اور ترقیاتی منصوبوں کے نفاذ کی ذمہ داری سنبھالیں۔ اضلاع کو بنیادی صحت، اسکولوں، پانی و نکاسی، مقامی سڑکوں، سماجی تحفظ اور شہری خدمات کیلئے حقیقی اختیار دیا جائے، جبکہ بلدیاتی ادارے صفائی، سڑکوں، پارکس، مارکیٹس، بلڈنگ کنٹرول اور روزمرہ شہری سہولیات کے ذمہ دار ہوں۔اس طرح ذمہ داری بھی واضح ہوگی اور ناکامی کی جواب دہی بھی۔AARsمحض انتظامی افسر شاہی کے مراکز نہیں ہونے چاہئیں۔ انکی بنیاد جمہوری نمائندگی پر ہونی چاہئے۔ہر علاقائی حکومت کیلئے پانچ سال کیلئے براہِ راست منتخب علاقائی کونسل ہو، جبکہ چیف ایگزیکٹو یا تو براہِ راست عوام منتخب کریں یا کونسل منتخب کرے۔ اضلاع اور بلدیاتی اداروں میں بھی منتخب حکومتیں ہوں۔اس سے اختیار صرف اسلام آباد یا صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہنے کے بجائے شہریوں کے قریب منتقل ہوگا۔
اختیارات کی منتقلی اس وقت تک بے معنی ہے جب تک وسائل بھی منتقل نہ ہوں۔اس کیلئے صوبائی سطح پر Regional Finance Commissions قائم کئے جا سکتے ہیں، جو AARs اور اضلاع کو ایک واضح اور قابلِ پیش گوئی فارمولے کے تحت وسائل منتقل کریں۔ اس فارمولے میں آبادی، غربت، رقبہ، بنیادی ڈھانچے کی کمی، ترقیاتی ضرورت، محصولات پیدا کرنے کی صلاحیت اور انسانی ترقی کے اشاریے شامل کیے جا سکتے ہیں۔ اصول سادہ ہونا چاہئے:”وسائل کے بغیر ذمہ داری نہیں، اور جواب دہی کے بغیر وسائل نہیں۔‘‘AARs کو بعض مقامی محصولات پیدا کرنے کا اختیار بھی دیا جا سکتا ہے، تاکہ وہ مکمل طور پر صوبائی یا وفاقی منتقلی پر منحصر نہ رہیں۔بااختیار AARs صرف انتظامی اکائیاں نہیں بلکہ علاقائی معاشی تبدیلی کے انجن بن سکتی ہیں۔ ہزارہ میں سیاحت، پن بجلی، زراعت، تعلیم اور صنعت کو مربوط انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ سابق فاٹا کے اضلاع کیلئے 10سے 15سالہ خصوصی ترقیاتی معاہدہ کیاجا سکتا ہے، جس میں انفراسٹرکچر،........
