menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

جی این مغل

21 0
11.09.2026

دنیا کی سیاست کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتی۔ عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات،خطے میں بدلتی ہوئی صورتِ حال، معاشی مفادات، جنگیں، تجارتی معاہدے اور نئی جغرافیائی صف بندیاں ہر ملک کی خارجہ پالیسی کو مسلسل متاثر کرتی رہتی ہیں۔ پاکستان بھی ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں مشرق میں بھارت، مغرب میں افغانستان اور ایران جبکہ شمال میں چین موجود ہے۔ اس جغرافیائی حیثیت نے پاکستان کی خارجہ پالیسی کو ہمیشہ غیر معمولی اہمیت دی ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد سے آج تک ہماری خارجہ پالیسی مختلف ادوار سے گزری ہے۔ کبھی سیکورٹی اور دفاع بنیادی ترجیح رہے، کبھی عالمی طاقتوں سے قریبی تعلقات کو اہمیت دی گئی اور کبھی خطے کے ممالک کے ساتھ اقتصادی اور سیاسی روابط بڑھانے کی کوشش کی گئی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کو بدلتی ہوئی عالمی حقیقتوں کے مطابق ایک واضح اورطویل المدت حکمتِ عملی میں تبدیل کرے۔پاکستان کے ابتدائی برس انتہائی مشکل تھے۔ ملک کو دفاعی خطرات، محدود معاشی وسائل اور خطے کے سیاسی مسائل کا سامنا تھا۔ بھارت کے ساتھ کشمیر کا تنازع اور دیگر سیکورٹی معاملات نے پاکستان کی پالیسی سازی میں دفاع کو مرکزی حیثیت دی۔سرد جنگ کے دوران پاکستان نے امریکہ اور مغربی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ ان تعلقات سے پاکستان کو دفاعی اور اقتصادی تعاون حاصل ہوا، لیکن وقت کے ساتھ یہ بحث بھی پیدا ہوئی کہ کیا پاکستان نے عالمی طاقتوں کے درمیان اپنے قومی مفادات کو ہمیشہ بہترین انداز میں ترجیح دی؟دوسری جانب چین کے ساتھ پاکستان کے تعلقات مسلسل مضبوط ہوتے گئے۔ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، دفاعی اور اقتصادی تعاون نے ایک ایسے مضبوط رشتے کو جنم دیا جو آج پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔آج عالمی طاقتوں کا نظام بھی بدل رہا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان معاشی اور اسٹرٹیجک مسابقت بڑھ رہی ہے، روس اور مغرب کے تعلقات میں کشیدگی موجود ہے، مشرقِ وسطیٰ مسلسل بحرانوں کا سامنا کر رہا ہے اور افغانستان کی صورتحال پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے۔ایسے ماحول میں پاکستان کیلئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ کسی ایک طاقت کے ساتھ مکمل وابستگی کے بجائے متوازن اور قومی مفاد پر مبنی خارجہ پالیسی اختیار کرے۔پاکستان کیلئے امریکہ بھی اہم ہے، چین بھی، خلیجی ممالک بھی، ایران اور ترکی بھی، جبکہ وسطی ایشیا کے ممالک مستقبل میں پاکستان کیلئے بڑی اقتصادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسلئے پاکستان کو عالمی تعلقات میں تصادم کے بجائے تعاون اور توازن کی پالیسی کو ترجیح دینی چاہئے۔آج کے دور میں کسی ملک کی طاقت صرف اس کی فوج یا سیاسی اثر و رسوخ سے نہیں بلکہ اسکی معیشت سے بھی طے ہوتی ہے۔ مضبوط معیشت ہی مضبوط سفارتکاری کو جنم دیتی ہے۔پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں اقتصادی سفارتکاری کو بنیادی حیثیت دینی چاہیے۔ پاکستانی سفارتخانوں کو صرف سیاسی رابطوں تک محدود رکھنے کے بجائے تجارت، برآمدات، سرمایہ کاری، سیاحت اور پاکستانی مصنوعات کے فروغ کیلئے فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان کے پاس ٹیکسٹائل، زراعت، معدنیات، آئی ٹی، کھیلوں کا سامان، سرجیکل آلات اور دیگر شعبوں میں عالمی منڈی تک پہنچنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اگر سفارت کاری کو ان شعبوں کیساتھ جوڑ دیا جائے تو پاکستان کیلئے نئے معاشی دروازے کھل سکتے ہیں۔چین پاکستان کا دیرینہ دوست اور اہم اقتصادی شراکت دار........

© Daily Jang