menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

اعظم ملک

16 0
11.09.2026

پاکستان کی سیاست میں بڑی تبدیلی سے پہلے افواہوں کا بازار گرم ہوتا ہے۔ کچھ عرصے سے یہی ہو رہا تھا لیکن اب لگتا ہے کہ افواہ ساز فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں اور اصل کھیل شروع ہونے والا ہے۔ زرداری صاحب واپس آ چکے ہیں۔ لندن پلان کی کہانی بھی تقریباً ختم ہو چکی۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون واپس آیا اور کون کہاں گیا بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہونے جا رہا ہے۔

میری اطلاعات اور سیاسی حالات کے تجزیے کے مطابق طاقت کے مراکز میں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ موجودہ انتظامی ڈھانچے کو اسی شکل میں مزید نہیں چلایا جا سکتا۔ مارچ 2027 کے سینیٹ انتخابات سے پہلے نئے صوبوں یا نئے بااختیار انتظامی یونٹس کے معاملے کو کسی نہ کسی شکل میں آگے بڑھانے کی سنجیدہ کوشش ہو سکتی ہے۔ دوسرے لفظوں میںشنید ہے کہ مارچ سےپہلے پاکستان کا انتظامی نقشہ بدلنے کی بحث محض بحث نہیں رہے گی بلکہ عملی سیاست کا حصہ بن سکتی ہے۔یہاں ایک بات سمجھنا ضروری ہے۔ اٹھارھویں ترمیم کے بعد صوبوں کو اختیارات اور وسائل تو ملے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ چاروں صوبے ایسے طاقتور مراکز بن گئے ہیں کہ عام آدمی اور ضلعی سطح کی حکومت کے درمیان فاصلہ کم ہونے کے بجائے کئی جگہ بڑھ گیا۔ این ایف سی کے ذریعے وسائل کی تقسیم ہوئی مگر وسائل اوراختیار کا بڑاحصہ صوبائی دارالحکومتوں میں مرتکز رہا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ چار صوبے کئی معاملات میںچار الگ الگ طاقت کے مراکز بن گئے۔

اب اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس انتظامی ساخت کو دوبارہ ترتیب دیا جا سکتا ہے؟احسن اقبال نے بارہ یا پندرہ صوبوں کی بات کی تو یہ محض ایک سیاسی جملہ نہیں تھا۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ اگر موجودہ صوبائی نظام عوام کو مقامی سطح پر اختیار نہیں دے رہا تو پھر تقریباً ایک سو ساٹھ اضلاع کو حقیقی انتظامی اور مالی اختیار دیا جائے یا بڑے صوبوں کو تقسیم کر کے نئے صوبے بنائے جائیں۔ اگر چاروں صوبوں کو تین تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو بارہ صوبے بنتے ہیں۔ یہ بحث اب قومی سیاست میں دوبارہ پوری شدت سے داخل ہو رہی ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ کوئی بھی بڑی سیاسی جماعت اپنے روایتی سیاسی قلعے کو آسانی سے تقسیم ہوتے نہیں دیکھنا چاہتی۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کیلئے صوبے کی تقسیم ایک انتہائی حساس معاملہ ہے۔ پنجاب میں بھی مختلف سیاسی قوتیں اپنی اپنی سیاسی حدود اور اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتی ہیں۔ یہاں کوئی سندھیوں سے محبت نہیں اور نہ کسی کو پنجابیوں سے کوئی ذاتی محبت ہے۔ اصل مسئلہ سیاسی اجارہ داری کا ہے۔ جسکے ہاتھ میں صوبائی اختیار ہے وہ اسے چھوڑنا نہیں چاہتا۔بینظیر بھٹو نہیں رہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نہیں رہے۔ ان کے نام اور نعرے آج بھی سیاست میں زندہ ہیں۔ لیکن عام آدمی یہ سوال ضرور پوچھ سکتا ہے کہ ان نعروں نے اسکی زندگی میں کیا بدلا؟ اگر سندھ کے عام شہری کو آج بھی روزگار، تعلیم، صحت، صاف پانی اور بااختیار مقامی حکومت کیلئےصوبائی دارالحکومت کی طرف دیکھنا پڑتا ہے تو پھر نعروں سے کیا حاصل؟اسی لیے نئے صوبوں کی بحث کو صرف لسانی یا علاقائی مسئلہ بنا دینا بھی درست نہیں۔ اصل سوال انتظامی کارکردگی اور اختیار کی تقسیم کا ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی نئے صوبوں کے معاملے پر یہ مؤقف سامنے رکھا ہے کہ یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ عوام کی رائے سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریفرنڈم کی بات بھی دوبارہ زیر بحث آ رہی ہے۔........

© Daily Jang