menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

حفیظ اللہ نیازی

32 0
11.09.2026

عظیم قائد نے ’’نوزائیدہ مملکت کو اسلام کی تجربہ گاہ بناناتھا‘‘، وہم و گمان میں نہ ہوگا کہ ہمیشہ کیلئے اقتدار ہتھیانے کا میدانِ جنگ بن جائیگا ۔ پاکستان بھٹک چکا ہے، جمہوری ملک مستقلاً سیاسی عدم استحکام کی عمیق دلدل میں دھنسا ہے۔ کسی شخصیت اور جماعت کے عشق میں مبتلا ہونا میرے نزدیک جہالت ہے، کسی شخصیت سے اتفاق، محبت ،عقیدت میں یا پھر اختلاف کی موجودگی میں حقائق سے چشم پوشی کا امکان نہ گنجائش۔

میانوالی کے ایک سیاسی گھرانے میں شعور کی آنکھ کھولی تو سیاسی ایکٹیوزم وراثت میں ملی۔ بمشکل 12 سال کی عمر میں محترمہ فاطمہ جناح کے صدارتی انتخاب میں دیگر بچوں کے ہمراہ لالٹین برادر جلوسوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا رہا ۔الیکشن والے دن 2جنوری 1965ء کو زندگی کی پہلی خونریز لڑائی کا ترنوالہ بنا ۔ ایوب خان کے حامی درجنوں بچوں نے میرا لالٹین کا نشان والا بِلا اُتارنے کی کوشش کی تو مزاحمت پر مجھے کئی پتھر مار کر شدید زخمی کر دیا ۔ اس کے باوجود سیاسی دلچسپی بڑھ گئی، میانوالی گھر کی سیاست کا اعجاز کہ 60ء کی دہائی کے سارے اپوزیشن لیڈروں سے ملاقات کا موقع ملا۔ ایک زمانہ ایسا بھی کہ جنرل ضیاء الحق سے بوجوہ بے تکلف رسائی تھی۔

آج اپنے ہر زمانے کے قریبی ساتھیوں کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ حکومت یا اقتدار سے زندگی بھر کبھی فائدہ نہیں اُٹھایا ۔ 70ء کی دہائی میں اپنی شناخت کیساتھ سیاسی ایکٹویسٹ رہااور قومی سطح پر نمایاں کردار ادا کیا۔ بھرپور سیاست کے جراثیم موجود تھے مگر اوائل جوانی میں عام سیاسی کارکنوں کی سیاسی جماعتوں میں درگت بنتے دیکھی تو خوفزدہ ہوا۔ ذلت اور رسوائی سے بچنے کیلئے 1977ء میں اپنے سے حلف لیا کہ زندگی بھر کسی سیاسی جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرنی اور نہ ہی عملی سیاست میں حصہ لینا ہے کہ عزت نفس کی حفاظت لازم تھی۔ ہمیشہ سیاسی گفتگو اور جستجو پاکستان کیلئے وقف کر رکھی، کسی کاروباری مجبوری یا مفاد کے زیربار نہیں رہا ۔ جب کبھی کسی نے وسیع تر قومی مفاد یا قومی سلامتی کی آڑ میں مملکت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بلاجھجک آڑے ہاتھوں لیا ۔ عمر کے جس حصے میں اب ہوں، زمینی خداؤں کا ڈر نہ دولت نہ جاہ و جلال کا لالچ اور نہ ہی تکلیف دہ صورتحال سے دوچار بیٹے کی محبت حائل ہے۔ اگرچہ بیٹا ماورائے قانون گرفتار ہوا، آئین پاکستان اور آئینی عدالتی نظام کی موجودگی میں ماورائے آئین اور ماورائے عدالتی نظام، 10سال قید کی سزا ایسے ملی کہ حراست بھی غیرقانونی، عدالتی کارروائی کاغذی، جبکہ فیصلے کی کاپی آج تک نہیں ملی۔ پاکستان کے حق میں آواز بلند کرنا فرض جانا ،کڑا کام مگر تالیف قلب، ذہنی سکون کیساتھ ضمیر مطمئن ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ کا کرم کہ بیٹا بھی ثابت قدمی اور استقامت سے جیل کاٹ رہا ہے ، میری طرف سے اسکی ہمت افزائی شامل ہے۔ مجھے یقین ہے میرا بیٹا اپنی زندگی کے ہر شعبے کو اسلام اور پاکستان پر قربان رکھے گا۔ فرد واحد کے افکار، کردار اور استبداد سے اگر اللّٰہ تعالیٰ کی حدود قیود میں بگاڑ پیدا ہو، خلقت خدا کی جان عذاب میں ہو ، اگر اس وقت اسکا وجود خلقت خدا کیلئے پریشانیاں پیدا کرے تو ہم لکھنے بولنے والوں پر واجب کہ اختلافی نوٹ کو شد ومد سے پیش کریں ۔ اپنی طویل عمر میں پاکستان کے چھ پُرآشوب ادوار دیکھ اور بھگت چکا ہوں ۔ ان سارے ادوار میں ایک قدر مشترک کہ مقتدرہ نے اپنی ذات اور اقتدار کو استحکام اور دوام بخشنے کے بدلے اس مملکت کی چولیں ہلائیں جس نے انکو اپنے سر کا تاج بنایا۔ آج سیاسی عدم استحکام کا ایک ایسا سلسلہ جو نہ ختم ہونے کو ۔ ایوب خان پچھلی 7 دہائیوں کی اکھاڑ پچھاڑ کے موجد، ایوب خان نے ہی دائمی عدم استحکام متعارف........

© Daily Jang