menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ڈاکٹر اعجاز شفیع گیلانی

27 0
10.09.2026

انتظامی افادیت، شناخت و تشخص کے تحفظ اور طاقت کی جمع تفریق میں توازن کے ذریعے پاکستان ایک بار پھر اس بحث میں مصروف ہے کہ وفاق سے نیچے کی سطح پر ملک کو کس ڈھانچے کے تحت چلایا جائے۔ کچھ لوگ نئے صوبوں کے حق میں ہیں۔ کچھ چھوٹی انتظامی اکائیوں کی بات کرتے ہیں اور کچھ کا خیال ہے کہ اصل حل بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے میں ہے۔ جو بظاہر انتظامی حدود کے بارے میں ایک ہی بحث معلوم ہوتی ہے، دراصل کم از کم تین الگ بحثیں ہیں: انتظامی افادیت کی بحث، شناخت اور تشخص کے تحفظ کی بحث اور طاقت کی جمع تفریق کی بحث۔ ان میں سے کسی ایک کو دوسروں کی قیمت پر حد سے بڑھانا دانشمندی نہیں، اور نہ ہی کسی ایک کو نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ اصل کام ان تینوں کے درمیان ایک قابلِ قبول اور پائیدار مفاہمت پیدا کرنا ہے۔

انتظامی افادیت اور شناخت و تشخص

پاکستان کے صوبے غیر معمولی حد تک بڑی حکومتی اکائیاں ہیں، اکیلے پنجاب کی آبادی کسی بڑے ملک کے برابر ہے۔ تاہم چھوٹی اکائی ہمیشہ بہتر نہیں ہوتی: کوئی اکائی اتنی بڑی ہو سکتی ہے کہ عوام کی رسائی متاثر ہو، یا اتنی چھوٹی کہ اسکے پاس مناسب انتظامی صلاحیت اور سیاسی وزن ہی نہ رہے۔ اصل سوال یہ نہیں کہ حکومت کو کتنا چھوٹا بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کون سی ذمہ داری کس سطح پر بہترین طریقے سے انجام دی جا سکتی ہے۔یہ نکتہ ہمیں اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کی طرف لے جاتا ہےمگر اسکا مطلب صوبوں کا خاتمہ نہیں۔ پاکستان کے صوبوں کے ساتھ گہرے تاریخی، لسانی اور سیاسی معنی وابستہ ہیں؛ انہیں محض انتظامی رکاوٹ سمجھنا انتظامی مسائل حل کرنیکی کوشش میں نئے سیاسی مسائل پیدا کرنے کا خطرہ مول لینا ہے۔ آئین بھی صوبوں اور بلدیاتی نظام کے درمیان کسی ایک کے انتخاب کا تقاضا نہیں کرتا: دفعہ 140-A کے تحت ہر صوبے کیلئے لازم ہے کہ وہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیار تفویض کرے۔ صوبہ پہلے سے موجود ہے؛ بلدیاتی نظام کو پہلے ہی آئینی حیثیت حاصل ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان زیادہ مؤثر تعلق کیسے قائم کیا جائے۔

طاقت: وہ متغیر جو نظر انداز ہو جاتا ہے

انتظامی اصلاحات پر عموماً اس انداز میں گفتگو کی جاتی ہے جیسے سیاسی مفادات محض ناخوشگوار پیچیدگیاں ہوں، جو کسی بہتر تکنیکی حل کے ملتے ہی خود بخود ختم ہو جائیں گی۔ ایسا نہیں ہوتا۔ حکومت کی ہر بامعنی ازسرِنو تشکیل اختیار کو نئے سرے سے تقسیم کرتی ہے، اگر فرائض نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں تو اوپر والوں کے اختیار میں کمی آتی ہےاور اگر بلدیاتی ادارے مضبوط ہوں تو صوبائی حکومت کو اپنے نیچے ایک زیادہ باوزن ادارے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ اصلاحات کے حادثاتی نتائج نہیں، بلکہ خود اصلاحات کا حصہ ہیں۔ چنانچہ طاقت کو انتظامی افادیت اور شناخت و تشخص کے ساتھ واضح طور پر تیسرا متغیر تسلیم کیا جانا چاہیے، اسلئے نہیں کہ ہر ذاتی مفاد کو جائز قرار دیا جائے، بلکہ اسلئے کہ یہ تسلیم کیا جائے کہ اختیار کس کے ہاتھ میں اور کتنا ہو، یہ خود سیاست کا جائز کاروبار ہے۔

اس مضمون کی مرکزی تجویز یہ ہے: اگر کسی ایک شعبے میں کسی جائز سیاسی فریق سے اختیار کم کیا جائے، تو ممکن ہے کہ اس کا ازالہ کسی دوسرے شعبے میں اختیار، نمائندگی یا مواقع کی صورت میں کیا جائے۔ یہ کوئی حسابی جمع تفریق نہیں،سیاسی طاقت کو اکائی در اکائی ناپا اور بدلا نہیں جا سکتا بلکہ یہ اداروں کی پائیداری کا ایک اصول ہے۔ جو اصلاح ایسے طاقتور گروہ پیدا........

© Daily Jang