محمود شام
پانچ ہزار میٹر بلند پہاڑوں پر ایک اکیلا خاندان ایک بزرگ ایک خاتون کئی بچیاں۔ بچے بچیاں ہر وقت متحرک بھاگتی دوڑتی۔ شفاف پانی تک پہنچتی۔ چہچہاتے پرندے۔ خالص فطری حسن۔دیودار شاہ بلوط۔ بھیڑ بکریاں مرغیاں۔ یہ افغانستان کے دور افتادہ ایک پہاڑی گاؤں کی جھلک ہے۔ اس ڈاکومنٹری کی تکمیل کئی ماہ میں ہوئی ہے۔ کئی اداروں نے اسکی سرپرستی کی ۔ایک بار آپ اس کو دیکھنے بیٹھیں تو درمیان میں وقفے کو جی نہیں چاہتا۔
میں کئی بار دیکھ چکا ہوں پھر بھی انسانی زندگی کے ارتقاء کو جانچنے کیلئے اس کامختلف پہلوؤں سے مشاہدہ کرتا رہتا ہوں۔
یہاں انسانی ضرورت کے سارے وسائل موجود ہیں اور ان وسائل تک ہر چھوٹے بڑے کو بلا روک ٹوک رسائی حاصل ہے۔ جب چاہے پانی کے چشمے تک پہنچ سکتے ہیں ۔پگڈنڈیاں، راستے خود بنائے ہوئے ہیں۔ اپنے کھیت اپنی سبزیاں۔ کوئی آبیانہ ہے نہ مالیہ۔ کہیں کوئی وردی نظر نہیں آتی۔ پولیس نہ کسٹم۔ کوئی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نہیں۔ رشوت لینے والا کوئی نہیں۔ اسلئے کوئی دینے والا بھی نہیں۔ کہیں کرنسی کا لین دین نہیں۔ اسلئے خالی جیب کسی پہ بھاری نہیں پڑتی ۔
اپنی سبزیاں۔ اپنا پانی۔ اپنا گوشت چھوٹا، بڑا، مرغی کا۔ بکریوں کا خالص دودھ، مکھن۔ زندگی بظاہر مشکل لگتی ہے مگر ہر چہرہ مطمئن، تر و تازہ۔ کسی ماتھے پر کوئی تیوری نہیں۔ کسی سے گلہ شکوہ نہیں۔ صبح بہت خوشگوار۔ دن بہت دوست دار۔ شام بہت سہانی۔ اپنے وسائل سے اپنے مسائل حل ہو رہے ہیں۔ خود انحصاری ہے خود کفالت ہے اور نتیجے میں خودداری۔
اس تنہا خاندان کے طرز رہائش اور آج کے بھرے شہروں کے انسانی طرز رہائش میں صدیوں کا فاصلہ ہے۔ کتنے مصلحین کی تحقیق ہے۔ کتنی تحریکیں مظاہر، سماج کے مختلف مناظر۔ کتابیں لکھی گئیں۔ دستاویزیں مرتب کی گئیں۔ معاہدے طے پائے لیکن بنیادی نکات وہی رہے کہ عام انسانوں کو وسائل تک رسائی آزادانہ حاصل ہو۔ وسائل پر چند خاندانوں کا قبضہ نہ ہو۔دولت کی منصفانہ تقسیم ہو۔ ہر شہری کو اس کا حصہ مساوی بنیادوں پر نصیب ہو۔
آبادی بڑھتی ہے تو وسائل تک رسائی میں مشکلات بھی بڑھتی ہیں۔ یہیں پر میڈیا ،ریاست حکومت اور حکمرانوں کی مہارت خلوص نیت اوراہلیت کا سوال پیدا ہوتا ہے۔ اس گاؤں میں ایک بزرگ سربراہ ہے۔ سارے بچے بچیاں رہنمائی اس سے حاصل کرتے ہیں۔ وہ سب میں نہ صرف نعمتوں کی مساوی تقسیم کرتا ہے، ہر ایک کی عزت نفس کا بہت خیال رکھتا ہےکہ کسی کو کسی قسم کی محرومی کا سامنا تو نہیں ہے ۔اسلئے سب اس پر اعتبار کرتے ہیں ۔ہم ویسے بڑے بڑے منصوبے لے کر بیٹھتے ہیں مگر یہ غور نہیں کرتے کہ انسانوں کو اچھی خوراک مل رہی ہے یا نہیں ۔غذائیت کم ہے یا زیادہ ۔قانون سب کیلئے یکساں نہیں ہے مکالمے ہوتے رہتے ہیں۔نئے صوبے بننےچاہئیں۔
نظام فرسودہ ہو گیا ہے۔ صدارتی نظام بہتر ہے ،پارلیمانی نظام نے عوام کو کچھ نہیں دیا۔ یہ مباحث صدیوں سے چلے آ رہے ہیں ۔بنیادی مسئلہ یہ رہتا ہے کہ فیصلہ سازوں کی نیت درست نہیں ہوتی۔ وسائل پر چند افراد غاصب ہو جاتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں بھی وہی براجمان ہوتے ہیں۔ شہری ادارے صوبائی محکمے ملکی وزارتیں اور ان پر مسلط عالمی تنظیمیں ایک فرد پر یہ سب اپنا بوجھ بڑھاتے رہتے ہیں ۔فرد کی آزادی بھی چھین لیتے ہیں۔ پینے کے صاف شفاف پانی تک، اناج تک، کھلی ہوا تک ،فرد کی رسائی مسدود کر دیتے ہیں۔ وسائل تک جب فرد کی پہنچ نہ ہوتو مسائل خود رو جھاڑیوں کی طرح سر اٹھاتے رہتے ہیں۔ وہ جو ہر دوا پر لکھا ہوتا ہے........
