حافظ محمد طاہر محمود اشرفی
9ستمبر2025ءپاکستان میں قومی وحدت، مذہبی ہم آہنگی اور انتہا پسندی و دہشت گردی کیخلاف اجتماعی جدوجہد کے حوالے سے ایک تاریخی دن ہے۔ اسی روز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی دوراندیش سوچ اور قومی سلامتی، اتحاد و استحکام کے وژن کو سامنے رکھتے ہوئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف کی ہدایت پر قومی پیغامِ امن کمیٹی قائم کی گئی۔اس کمیٹی کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ مسلمانوں کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ کیساتھ پاکستان میں رہنے والے مسیحی، ہندو، سکھ اور دیگر مذاہب کے قائدین کو بھی ایک مشترکہ قومی پلیٹ فارم پر یکجا کیا گیا۔ یوں قومی پیغامِ امن کمیٹی بین المسالک و بین المذاہب مکالمے، اعتماد اور قومی یکجہتی کا ایک مؤثر فورم بن کر سامنے آئی۔گزشتہ ایک سال کے دوران کمیٹی نے پیغامِ پاکستان کی روشنی میں بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی، مذہبی رواداری، غیر مسلم پاکستانیوں کے حقوق اور انتہا پسندی و دہشت گردی کے خلاف فکری جدوجہد کو محراب و منبر سے ذرائع ابلاغ اور عوامی اجتماعات تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔اس سفر کی ایک اہم کامیابی یہ ہے کہ مختلف مواقع پر قومی ضرورت کے مطابق خطباتِ جمعہ کیلئے مشترکہ موضوعات متعین کیے گئے اور ملک بھر کی اکثریتی مساجد میں علماء و خطباء نے انہی موضوعات پر گفتگو کی۔ ان میں اسلام میں غیر مسلموں کے حقوق، جہاد اور دہشت گردی میں فرق، مسلم ریاست اور شہریوں کے باہمی حقوق و ذمہ داریوں، خواتین اور بچوں کے حقوق، احترامِ انسانیت، مذہبی رواداری اور انتہا پسندی و فرقہ وارانہ تشدد کی ممانعت جیسے اہم موضوعات شامل رہے۔یہ ایک اہم پیش رفت تھی کہ پیغامِ پاکستان کا بیانیہ محض کتابوں، دستاویزات اور کانفرنسوں تک محدود نہیں رہا بلکہ محراب و منبر، ذرائع ابلاغ اور عوام الناس تک پہنچا۔ علماء و خطباء نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں واضح کیا کہ دہشت گردی،بے گناہ انسانوں کا قتل، مذہبی جبر اور معاشرے میں فساد کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔قومی پیغامِ امن کمیٹی نے غیر مسلم پاکستانیوں کو اس قومی عمل میں عملی طور پر شریک کیا، ان کے مسائل اور مذہبی و شہری حقوق کے حوالے سے آواز بلند کی گئی، جبکہ مساجد و مدارس کے ساتھ چرچوں اور دیگر مذہبی مقامات کے دوروں اور مذہبی قائدین سے ملاقاتوں کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا گیا کہ پاکستان اپنے تمام شہریوں کا مشترکہ وطن ہے اور آئین و قانون کے تحت ہر شہری کے حقوق کا تحفظ ہماری قومی اور دینی ذمہ داری ہے۔دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے، بالخصوص فتنہ الخوارج اور فتنہ ہندوستان کے حوالے سے قومی مؤقف کو علماء، خطباء، مذہبی قیادت اور ذرائع ابلاغ کے ذریعے عوام تک پہنچانے میں بھی کمیٹی نے مؤثر کردار ادا کیا۔ آج دہشت گردی کے خلاف مذہبی اور قومی سطح پر جس فکری یکسوئی کا اظہار ہو رہا ہے، اس میں محراب و منبر کی آواز بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ پشاور میں علماء و مشائخ کانفرنس، مختلف مکاتبِ فکر کے مدارس کے دورے، چرچوں اور مذہبی مراکز میں ملاقاتیں، علماء و مشائخ کے ساتھ مسلسل مشاورت اور ملک کے مختلف حصوں میں امن و رواداری کی سرگرمیاں اس ایک سالہ سفر کے نمایاں سنگِ میل ہیں۔اس ایک سالہ سفر کا ایک نہایت قابلِ قدر پہلو یہ بھی ہے کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی کے اراکین نے کسی سرکاری مالی معاونت یا حکومتی فنڈ کے بغیر، اپنی مدد آپ کے تحت، رضاکارانہ جذبے کیساتھ اس قومی مشن کو آگے بڑھایا۔ ملک کے........
