menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مجید اصغر

25 0
09.09.2026

ڈونلڈ ٹرمپ نے خود کو امریکی تاریخ کا سب سے بہترین صدر قرار دیا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے پاکستان کے ایک بہت بڑے لیڈر نے جو ابھی اتنے بڑے نہیں ہوئے تھے، اسکندر مرزا کو قائد اعظم سے بھی بڑا لیڈر قرار دیا تھا ۔ مقصد مرزاکی خوشنودی حاصل کرکے اپنے لئے آگے بڑھنے کا راستہ ہموارکرنا تھا۔ انسانی تاریخ میں ایسے بڑے لوگ بہت سے گزرے ہیں جن کی قہر مانیوں سے سارا عالم لرزہ براندام تھا اور جان کی امان مانگ رہا تھا ۔ نمرود، فرعون ،شداد، قیصر و کسریٰ وغیرہ اسی صف کے بڑے لیڈر تھے ۔ایک وقت رومی سلطنت کا تھا جس کے بادشاہ حبشی غلاموں کو بڑے پنجرہ نما میدانوں میں بھوکے شیروں کے آگے پھینک دیتے تھے اور جب شیر ان کے چیتھڑے اڑاتے تو ’’ظل سبحانی‘‘ ان سے لطف اندوز ہوتے ، پھر بازنطینی آئے ،چنگیزخان اور ہلاکو خان نے اپنی طاقت کو منوایا ۔وسط ایشیا کے تاتاری اور ہن بھی اپنے وقت کے بڑے تھے ان میں سے ایک نے کشمیر کو تہہ تیغ کیا اس کے لشکر کا ایک ہاتھی بلند پہاڑ سے پھسل کر گہری کھائی میں جاگرا تاتاری حملہ آور کو اس کی چیخیں اتنی پسند آئیں کہ مزید ایک سو ہاتھیوں کو پہاڑ سے لڑھکا دیا اور ان کی چیخوں سے محظوظ ہوتا رہا ۔ یہ وہ’’ بادشاہ سلامت‘‘ تھے جن کا ذکر اب نفرت کے طور پر تاریخ کی کتابوں میں ملتا ہے ۔ صدر ٹرمپ آج میڈیا کے تشہیری دور کے بڑے ہیں جن کی شہنشاہیت کی مدت ختم ہونے میں زیادہ عرصہ باقی نہیں رہا ۔ مگر ایک طرف وہ قدیم ایرانی تہذیب کو مٹانے کے درپے ہیں تاکہ تاریخ عالم کے سب سے طاقتور صدرہونے کا تاج اپنے سر پر رکھ سکیں تو دوسری طرف دنیا بھر کے معدنی وسائل پر قبضے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ امریکہ سپر پاور تو پہلے ہی ہے ٹرمپ اسے معدنیاتی سپر پاور بنانا چاہتے ہیں تاکہ ان کے نام کے نعرے چار دانگ عالم میں گونجیں اور تاریخ انہیں ان کے دور کے سب سے بڑے ہیرو کے طور پر یاد رکھے ۔

امریکا خود بھی معدنی دولت سےمالا مال ہے مگر’ ہل من مزید‘ کی ہوس اسے کبھی وینزویلا پر قبضےکیلئے اکساتی ہے، کبھی کینیڈا سےکہا جاتا ہے کہ وہ امریکا کا صوبہ بن جائے، کبھی گرین لینڈکو ہڑپ کرنے کا نعرہ لگایا جاتا ہے تو کبھی کیوبا پر حملے کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔ یہ سب ملک حساس معدنی وسائل کی وجہ سے امریکا کی نظر میں کھٹک رہے ہیں ۔ وینزویلا کو ٹرمپ نے ایک ہی رات میں فتح کرکے اس کے صدر اور اس کی بیوی کو اپنے ’بندی خانے‘ میں قید کرلیا اس سے ان کا حوصلہ بڑھا تو معدنیات والے ایک اور ملک ایران پر جا جھپٹے جو تقریباً نصف صدی سے’’مرگ بر امریکا‘‘ کے نعرے لگا رہا تھا ۔ اگر کوئی کسر تھی تو وہ اسرائیل نے نکال دی اور ٹرمپ کو ایران پر حملے کیلئے تیار کرلیا ۔ اسرائیل کا نیتن یاہو نیل سے فرات تک گریٹر اسرائیل کےخواب دیکھ رہا ہے تو ٹرمپ بھی امریکا کو عظیم تر بنانے کیلئے بے چین ہیں دونوں نے مل کر ایران پر ہلہ بول دیا مگر توقع کے برخلاف ایران لوہے کا چنا ثابت ہوا۔ انکا خیال تھا کہ وینزویلا ایک رات کی مار ہے تو ایران ایک دو دن میں گھٹنےٹیک دے گا ۔ لیکن ایسا نہ ہوسکا ایران جیسے تیسے امریکا کو چھٹی کا دودھ یاد دلا رہا ہے ۔ امریکا کو اسلام آباد معاہدے کے بہانے کچھ مہلت ملی تو نئی تیاری کے ساتھ پھر ایران پر چڑھ دوڑا اب بھی تھوڑی دیر کیلئے جنگ روکتا ہے تو ایسا لگتا ہے بس اب مسئلہ حل ہوگیا مگر دوچار دن بعد وہ پھر نئی تیاری کے ساتھ حملہ کردیتا ہے ۔ ایرانی بھی تیار بیٹھے رہتے ہیں وہ جواب میں عرب ملکوں میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بناتے ہیں تو وہاں چیخ و پکار شروع ہوجاتی ہے یہ جنگ امریکا لڑرہا ہے جو اصل میں اسرائیل کی ہے ۔ اسرائیل........

© Daily Jang