menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

محمد مہدی

25 0
09.09.2026

دنیا کی سیاست میں بعض تبدیلیاں خاموشی سے رونما ہوتی ہیں، مگر انکے اثرات بہت دور تک محسوس ہوتے ہیں۔ پاکستان اس وقت اسی نوعیت کے ایک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ بظاہر معاملات الگ الگ دکھائی دیتے ہیں، گوادر، امریکہ کی مالی معاونت، مکہ معاہدہ، شنگھائی تعاون تنظیم اور نئے صوبوں کی بحث۔ لیکن ذرا گہرائی میں جائیں تو ان سب کے پیچھے ایک ہی سوال کھڑا نظر آتا ہے: بدلتی ہوئی دنیا میں پاکستان اپنی جگہ کہاں متعین کر رہا ہے؟چین میں اب یہ احساس پیدا ہو رہا ہے کہ گوادر کو محض ایک تجارتی منصوبے کے طور پر دیکھنا شاید حقیقت پسندانہ عمل نہیں۔ پاکستان میں اسے ’’پاکستانی شینجن‘‘ کہا گیا، مگر شینجن کی کامیابی کے پیچھے ہانگ کانگ جیسا پہلے سے قائم عالمی تجارتی مرکز موجود تھا۔ وہاں سرمایہ، صنعت، تجارت اور انسانی وسائل پہلے ہی جمع تھے۔ گوادر کے سامنے ایسی کوئی معاشی بنیاد موجود نہیں۔ بنیادی سہولتوں کی کمی اپنی جگہ، سکیورٹی کے مسائل نے بھی سرمایہ کاری اور تجارت کے امکانات کو متاثر کیا ہے۔ چنانچہ یہ بات قابلِ غور ہے کہ شاہراہِ قراقرم اور ایم ایل ون جیسے منصوبوں کیلئے پاکستان اب چین کے بجائے ایشیائی ترقیاتی بینک سے بات کر رہا ہے۔ اسکا مطلب یہ نہیں کہ چین نے گوادر سے ہاتھ کھینچ لیا ہے۔ گوادر کی اسٹریٹجک اور سیاسی اہمیت بدستور موجود ہے، لیکن شاید اسکی معاشی افادیت کے بارے میں چینی سوچ پہلے جیسی نہیں رہی۔ گوادر کی ترقی اب زیادہ تر تزویراتی ضرورت کے طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ اسی پس منظر میں پاکستان کی امریکہ سے 10ارب ڈالر کی بائی لیٹرل ایکسچینج اسٹیبلائزیشن سپورٹ فیسلیٹی حاصل کرنیکی خواہش بھی اہم ہے۔ امریکہ اس نوعیت کی مالی مدد یوراگوئے اور ارجنٹائن کو دے چکا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ پاکستان کیلئے واشنگٹن کے مفادات کیا ہیں؟ ارجنٹائن کے معاملے میں کریٹیکل منرلز، چینی اثر و رسوخ کو محدود کرنا اور بعض دوسرے امریکی مفادات واضح تھے۔ پاکستان کے معاملے میں صورت حال اتنی سادہ نہیں۔ اسی لئے یورپی حلقوں اور بیجنگ میں یہ رائے سنائی دیتی ہے کہ امریکہ پاکستان کو شاید دو یا اڑھائی ارب ڈالر سے زیادہ کی مدد نہ دے، کیونکہ واشنگٹن کی نظر میں پاکستان کی فوری ضرورت بھی شاید اسی حد تک ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر 10 ارب ڈالر کی خواہش اور امریکی مفاد کے درمیان فاصلے کو سمجھنا ہوگا۔ دوسری طرف مکہ معاہدہ چین کی خصوصی توجہ کا مرکز ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ امریکہ اس خطے میں سکیورٹی پرووائیڈر کے طور پر کب تک اور کس حد تک موجود رہنا چاہتا ہے۔ اگر علاقائی سلامتی کا کوئی نیا بندوبست تشکیل پاتا ہے تو اس میں مکہ معاہدے کی تزویراتی حیثیت کیا ہوگی؟ بیجنگ اسی سوال کا جواب تلاش کر رہا ہے۔ اس معاہدے کے اثرات یورپ میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مشرقی یورپ میں اس پیشرفت کو تشویش کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے، جبکہ یونان پہلے ہی بھارت کیساتھ اپنی اسٹریٹجک قربت بڑھا رہا تھا۔ اب ترکی کی شمولیت والا مکہ معاہدہ ایک نئی علاقائی حقیقت کے طور پر اسکے سامنے موجود ہے۔ مغربی یورپ فی الحال خاموش ہے، مگر اس خاموشی کو بے خبری نہیں سمجھنا چاہئے۔ وہاں اس نئی صف بندی کا گہرائی سے جائزہ لیا جا رہا ہے ابھی انگلینڈ، فرانس اور جرمنی کے وزرائے خارجہ کی پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرا ئےخارجہ سے ملاقات طے تھی مگر نہ ہو سکی تاہم امید ہے کہ جلد ہی ہوگی، اس ملاقات کے بعد زیادہ بہترطور پر تعين کیا جا سکے گا کہ یورپ مکہ معاہدے کو کس نظر سے دیکھ رہا ہے۔ پھر شنگھائی تعاون تنظیم ہے۔ ایس سی........

© Daily Jang