menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مرزا اشتیاق بیگ

26 0
09.09.2026

نیپال کو ہمالیہ کی سرزمین اور برف پوش پہاڑوں کا ملک کہا جاتا ہے لیکن یہی جغرافیائی ساخت اِسے قدرتی خطرات سے دوچار کرتی ہے۔ نیپال میں گزشتہ دنوں آنے والے ہولناک سیلاب نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، گلیشیرز کے پگھلائو اور قدرتی آفات کے بڑھتے خطرات سے پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک محفوظ نہیں۔ 26 اگست کو علی الصبح نیپال اور چین میں تبت کے سرحدی علاقے میں لوگ ابھی نیند سے بیدار بھی نہ ہوئے تھے کہ گلیشیر کا ایک بڑا تودہ ہزاروں میٹر نیچے جھیل میں جاگرا۔ برفانی تودہ گرنے اور زمین سے ٹکرانے کی شدت اتنی تیز تھی کہ اس کے نتیجے میں 5.2 شدت کا زلزلہ ریکارڈ کیا گیا جس سے سیلابی ریلے کی ایسی لہر پیدا ہوئی جس نے کسی کو محفوظ مقامات تک پہنچنے کا موقع نہیں دیا۔ اس سیلابی ریلے نے راستے میں آنے والی وادیوں، پاور پروجیکٹس، سڑکوں اور پلوں کو تباہی سے دوچار کردیا۔ اس ہولناک تباہی کے نتیجے میں نیپال اور چین میں اب تک 1400 سے زائد افراد ہلاک اور 5 ہزار سے زائد نیپالی اور چینی باشندوں کے علاوہ سینکڑوں غیر ملکی سیاح لاپتہ ہیں۔

نیپال کی حالیہ تباہی نے دنیا کی توجہ ایک بار پھر موسمیاتی تبدیلی جیسے مسائل کی طرف مبذول کرائی ہے اور سانحہ کی وجہ ہمالیہ میں بڑھتے درجہ حرارت کو قرار دیا جارہا ہے۔ ماحولیاتی ماہرین کے مطابق گرم ہوتی فضا گلیشیرز کے پگھلائو، برفانی ذخائر میں تبدیلی اور بلند پہاڑی علاقوں میں مستقل جمے گلیشیرز کو کمزور کرنے میں اہم کردار ادا کررہی ہے جس کے نتیجے میں وہ چٹانیں اور برفانی ڈھانچے جو صدیوں سے نسبتاً مستحکم رہے ہیں، اب غیر مستحکم ہوتے جارہے ہیں۔

نیپال کا سیلاب اس لئے بھی غیر معمولی تھا کہ روایتی سیلاب عموماً بارش اور دریا میں طغیانی کے باعث پیش آتے ہیں جبکہ نیپال میں آنے والے سیلاب کا بنیادی سبب گلیشیرز اور چٹان کا اچانک انہدام تھا۔ اس سیلابی تباہی کا معاشی تخمینہ 5 ارب ڈالر سے زائد لگایا گیا ہے جو نیپال کی معیشت کا تقریباً 10 فیصد ہے۔ سیلاب سے ہونے والی یہ تباہی صرف نیپال کا مسئلہ نہیں بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کا بھی ہے۔ نیپال کی طرح پاکستان کا بھی عالمی گرین ہائوس گیس اخراج میں حصہ بہت کم ہے مگر یہ ہمالیائی خطہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا ایک اہم مرکز بن رہا ہے جس کے باعث گرین ہائوس گیسز کا کم اخراج کرنیوالے ممالک بھی موسمیاتی تبدیلی کے ان اثرات کا سامنا کررہے ہیں جنکی ذمہ داری بڑی حد تک عالمی سطح پر گرین ہائوس گیسوں کے اخراج سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان کیلئے اس واقعہ کی اہمیت اس لئے بھی کہیں زیادہ ہے کہ ہمارے شمال میں ہندوکش، قراقرم اور ہمالیہ کا وسیع پہاڑی سلسلہ موجود ہے جہاں ہزاروں گلیشیرز اور گلیشیائی جھیلیں ہیں۔ عالمی ماحولیاتی انڈیکس کے مطابق پاکستان اُن 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔

پاکستان کے شمالی علاقوں میں 7 ہزار سے زائد گلیشیرز موجود ہیں جو گرمی کی شدت کے باعث تیزی سے پگھل کر اچانک سیلاب کی شکل اختیار کررہے ہیں۔ ان گلیشیرز کا غیر معمولی پگھلائو پاکستان کیلئے شدید خطرہ بنتا جارہا ہے۔ پاکستان کے دریائوں میں مجموعی پانی کا 70 فیصد حصہ گلیشیرز پگھلنے سے حاصل ہوتا ہے مگر گزشتہ چند سال کے دوران ان گلیشیرز کا بے وقت پگھلائو مستقبل میں پاکستان میں تباہ کن........

© Daily Jang