menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

وجاہت مسعود

27 0
09.09.2026

پیرس میں 1940ءکا موسم سرما قیامت خیز تھا۔ اس برس 14جون کو نازی فوجیں پیرس پر قابض ہو گئی تھیں ۔فرانس محض ایک مہینہ نازی طوفان کی مزاحمت کر سکا۔ جون کے پہلے ہفتے میں برطانیہ رودبار انگلستا ن کے راستے ڈنکرک سے ساڑھے تین لاکھ فوجی واپس لے گیا تھا۔ فرانس بیک وقت سیاسی، موسمی اور انتظامی طوفانوں سے دوچار تھا۔ نازی استبداد کی آنچ میں فرانس کو گوشہ عافیت سمجھ کر پناہ لینے والے اب فرانس سے باہر نکلنے کی فکر میں تھے۔ جنگلوں اور وادیوں میں پناہ گزین قطار اندر قطار اجنبی منزلوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ محض 40فیصد ملکی رقبے تک محدود فرانس کی کٹھ پتلی وشی حکومت پوری طرح جرمنی کی تابع مہمل تھی۔ جرمنی کو روزانہ چار کروڑ فرانک بطور تاوان ادا کرنے پر مجبور یہ نام نہاد حکومت فرانس میں تیل کے 92فیصد اور کوئلے کے40 فیصد ذخائر سے محروم ہو چکی تھی۔

سردی اس برس بے حد شدید تھی اور معمول سے کچھ پہلے اتر آئی تھی۔ اہل فرانس نے ایک پوری نسل میں ایسی شدید سردی نہیں دیکھی تھی۔22اکتوبر 1940ءکی صبح جنوب مشرقی فرانس کے قصبے گرینوبل میں دو افراد اپنے شکاری کتوں کے ہمراہ جنگل کی طرف نکلے۔ کچھ ہی فاصلے پر انہیں ایک ہیبت ناک چیز نظر آئی۔ شاہ بلوط کے پرانے درخت کے نیچے انہیں کسی شخص کی اکڑوں بیٹھی لاش نظر آئی جسے خزاں کے زرد پتوں نے ڈھانپ رکھا تھا۔لاش کی گردن میں لپٹے رسے میں گرہ لگی تھی۔ لاش کی گلی سڑی حالت بتا رہی تھی کہ مردہ شخص کی موت کافی مدت پہلے واقع ہوئی تھی۔ بظاہر مرنے والے نے خودکشی کی تھی یا اسے زبردستی پھندہ دیا گیا تھا۔ بعد ازاں لاش کے وزن سے رسی ٹوٹ گئی اور مرنے والا پیروں کے بل جس طرح گرا اسی حالت میں گرینوبل کے شکاریوں کو اکتوبر کی اس صبح نظر آیا۔ جنوبی فرانس کے ان گمنام شکاریوں کو کیسے معلوم ہو سکتا تھا کہ مرنے والے کا نام ولی موئنز برگ تھا ۔ یہ شخص دو عالمی جنگوں کے درمیانی برسوں میں عالمی اشتراکی تحریک کا سر کردہ رہنما تھا۔ موئنز برگ کمیونسٹ تحریک میں مغربی بیورو کا پراپیگنڈہ چیف رہ چکا تھا۔ جعلی ثقافتی تنظیموں کے ذریعے اخبارات، جرائد ، ریڈیو اور فلم میں پراپیگنڈے کا ایسا ہنر جانتا تھا کہ جرمن مؤرخ والٹر لاکور نے اسے ثقافتی تحرک میں عبقری قرار دیا تھا۔ آرتھر کوئسلر جیسے شخص نے لکھا کہ اشتراکی صفوں میں پراپیگنڈے کے محاذ پر موئنز برگ کا موازنہ صرف گوئبلز ہی سے کیا جا سکتا تھا۔ 1889ءمیں پروشیا کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہونے والا موئنزبرگ اپنی ذات میں ایک طوفان تھا۔ محنت کشوں کی تنظیم سازی میں بلا کا ماہر تھا۔ جرمن کمیونسٹ پارٹی کے رکن کی حیثیت میں 1924 ءسے 1933 ءتک جرمن پارلیمنٹ کا رکن رہا۔ اشتراکی نوجوانوں کی بین الاقوامی تنظیم کا سربراہ رہا۔ سوئٹزرلینڈ میں قیام کے دوران لینن سے قریبی رابطے میں تھا۔موئنز برگ کی تنظیمی صلاحیت کا یہ عالم تھا کہ اس کے حامیوں میں تھامس مان ، آلڈوس ہکسلے ، ایچ جی ویلز، کلیمنٹ ایٹلی اور جواہر لال نہرو تک شامل تھے۔ وہ بیک وقت برطانوی یونیورسٹیوں سے لے کرآسٹریلوی محنت کشوں اورامریکی فلم انڈسٹری تک اثر و نفوذ رکھتا تھا۔

جرمن ریشتاغ میں آتشزنی کے بعد موئنز برگ نے جرمن عدالت میں مقدمے سے بھی پہلے ساڑھے تین سو صفحات کی ایک کتاب لکھ کر ثابت کیا کہ یہ آگ نازی پارٹی کے رہنما گوئرنگ اور گوئبلز نے لگائی تھی تاکہ جرمنی میں فسطائیت قائم کی جا سکے۔ 1933ءمیں شائع ہونیوالی یہ کتاب 23زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور اس کے ساڑھے چھ لاکھ نسخے فروخت ہوئے۔ تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ موئنز برگ 1936ءمیں سوویت یونین پہنچا تو جوزف اسٹالن کے بدنام........

© Daily Jang