menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سلیم صافی

43 0
09.09.2026

خیبرپختونخوا کے سابق گورنر شاہ فرمان کی یہ بات وزن رکھتی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کے بعد ہم نے چار صوبوں کی شکل میں چار ملک بنادئے ہیں۔ وفاق جو محصولات جمع کرتا ہے ، اس کا بیشتر حصہ نیشنل فنانس کمیشن کی رو سے صوبوں کے پاس چلاجاتا ہے جبکہ مرکز کنگال رہ جاتا ہے ۔ اسلام آباد، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کو چونکہ این ایف سی میں حصہ نہیں ملتا اس لئے ان کی ضرورت بھی بعدازاں مرکز نے پوری کرنی ہوتی ہے۔ اسی لئے گزشتہ بجٹ کے دوران مرکز کو منت ترلہ کرکے صوبوں سے تھوڑی سی رقم واپس لینی پڑی لیکن پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت اس معاملے میں بالکل قارون بنی ہوئی ہے ۔ 2018ءمیں جب فاٹا کا پختونخوا کے ساتھ انضمام ہورہا تھا تو سرتاج عزیز کمیٹی نے اپنی رپورٹ (جو پرنٹڈ شکل میں موجود ہے) میں یہ سفارش کی تھی کہ دس سال تک ڈویزیبل پول کی تین فی صد رقم فاٹا کو دی جائیگی تاکہ وہ ملک کے باقی حصوں کے کسی حد تک برابر آسکے۔ اسکے بعد ہم بار بار عمران خان حکومت کے عہدیداروں کو متوجہ کرتے رہے کہ وہ اس مقصد کیلئےاین ایف سی کا اجلاس بلائیں تو ان کی طرف سے جواب ملتا کہ سندھ نہیں مان رہا۔ اسی طرح شہباز شریف کی حکومت میں بھی ہمیں یہی جواب ملتا ہے کہ سندھ تیار نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا سندھ، بلوچستان یا خود خیبرپختونخوا سے زیادہ غریب ہے؟ ۔ گویا اگر پچھلے آٹھ سال میں خیبرپختونخوا کو فاٹا کے حصے کے تین فی صد (ڈویزیبل پول) کے نہیں مل سکے تو مرکزی حکومتوں کیساتھ ساتھ اس کی ذمہ دار سندھ کی پیپلزپارٹی کی حکومت بھی ہے۔ علاوہ ازیں جب فاٹا کی ڈیڑھ کروڑ آبادی پختونخوا کیساتھ شامل ہوگئی ہے تو اس حساب سے قابل تقسیم محاصل کی تقسیم کا کلیہ بھی تبدیل ہونا چاہئے اور پختونخوا کا حصہ اس حساب سے بڑھنا چاہئے لیکن اس حوالے سے بھی کوئی ٹس سے مس نہیں ہورہا اور پختونخوا کو اس حساب سے حصہ مل رہا ہے جس حساب سے فاٹا انضمام سے قبل ملا کرتا تھا۔

پاکستان کے چاروں صوبے اپنے اپنے وسائل کے حوالے سے قارون بن کر نہ تو اوپر منتقل کرنے کو تیار ہیں اور نہ نیچے۔ جس آئین کی رو سے انہیں قابل تقسیم محاصل سے کھربوں روپے ملتے ہیں اور جس کا ایک روپیہ وہ اپنی دسترس سے باہر کرنے کو تیار نہیں، اسی آئین کی رو سے پاکستان کی حکومت کے تین درجے ہیں۔ ایک وفاقی، ایک صوبائی اور ایک مقامی حکومتیں یا ضلعی حکومتیں۔ اٹھارویں آئینی ترمیم کو پاس ہوئے سولہ سال ہوگئے لیکن اس دوران کسی بھی صوبے نے مقامی حکومتیں نہیں بنائیں۔ عدالتوں کے حکم پر انہوں نے کبھی کبھار بلدیاتی انتخابات کرائے لیکن انہیں مالی اور انتظامی اختیارات نہیں دیئے۔ ضلع کونسل یا تحصیل کونسل اور ضلعی حکومت اور تحصیل حکومتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہماری صوبائی حکومتیں زیادہ سے زیادہ کونسلوں کا انتخابات کراتی ہیں حالانکہ انہیں نہ صرف مقامی حکومتیں منتخب کروانی چاہئیںبلکہ وفاقی فنانس کمیشن کی طرز پر صوبائی فنانس کمیشن بنا کر مرکز سے ملنے والی رقم کو ایک فارمولے کے تحت اضلاع میں تقسیم کرنا چاہئے لیکن تماشہ یہ ہے کہ ہر وزیراعلیٰ بادشاہ بنا ہوا ہے ۔ وہ اگر ایک ضلع کو سو ارب دے اور دوسرے کو ایک ارب بھی نہ دے تو ان سے پوچھنے والا کوئی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ صوبوں کے وسائل بے تحاشہ بڑھ جانے کے باوجود لوگوں کے معیار زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا۔

ایک طرف پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کی سڑکیں کھنڈرات بن گئی ہیں اور وہاں کے باسی فریاد کررہے ہیں کہ اندرون سندھ کی نمائندہ پیپلزپارٹی انہیں جائز حق نہیں دے رہی ہے جبکہ دوسری طرف پنجاب کے جنوبی اضلاع کو شکایت ہے کہ ان پر ان کے حصے کی رقم کا نصف بھی خرچ نہیں کیا جارہا۔ اس اکیسویں صدی میں چاروں صوبوں میں آج بھی ایسے اضلاع........

© Daily Jang