فرنود عالم
براڈ پیک پر دس کوہ پیما برفانی تودے کے نیچے دب گئے۔ان میں نرمل پُرجا جیسا نیپالی کوہ پیما بھی تھا،جس نے دنیا کی چودہ بڑی چوٹیاں چھ ماہ میں سرکیں۔نیٹ فلکس کی ڈاکیومنٹری فورٹین پیکس اسی کی کہانی تھی۔لاہور سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر اسماء مشتاق سپینٹک کی چوٹی سر کر کے واپسی پر تھیں کہ سانس ٹوٹ گئی۔سوات کے کوہ پیما سید علی شاہ کی لاش دو ماہ فلک سیر پر بچھی ہوئی برف پر پڑی رہی۔پھر موسیٰ کا مصلی، جہاں ایک برطانوی نژاد ٹریکر ایلیکس چلتے چلتے ٹریک سے اترگیا۔نیچے کہیں جنگل میں گیا اور پھر واپس نہ آیا۔جارج میلوری کو جون 1924ءمیں ایورسٹ کی چوٹی کے قریب اوپر کی طرف جاتے ہوئے دیکھا گیا۔پھر وہ بادلوں میں کہیں گم ہوگیا۔ پچھتر سال بعد وہ بادلوں میں سویا ہوا ملا۔کسی نے اس سے پوچھاتھا، تم نے ایورسٹ کیوں جانا ہے۔اس نے کہا،کیونکہ وہ وہاں ہے۔بات ہی ختم۔یہ بلاوجہ کی چاہت اور جستجو ہے۔اس پر بات نہیں ہوسکتی۔خودکشی کی بحث تو بالکل مذاق ہے۔ہر کسی کی اپنی فینٹسی ہے اور ہر فینٹسی کا اپنا لیول ہے۔اقبال سوچتے تھے ستاروں سے آگے کا جہان کیسا ہوگا۔فیصل عجمی سوچتے ہیں دوسری طرف سے یہ آسمان کیسا ہوگا۔نصیر احمد ناصر کی خواہش ہے کہ دنیا کی طرف پائوں لٹکا کر کسی ستارے پربیٹھنا چاہیے۔کوئی سوچتاہے چاند میں بیٹھ کر سرسوتی کی بانسری سننی چاہیے۔بادلوں میں رقص کرنا چاہیے۔تخیل کی یہ وارداتیں انسان کو تنگ کرتی ہیں۔کوئی شعر کہہ دیتاہے کوئی واقعی ستارے کی طرف چل پڑتا ہے۔یہ سوچے بغیر کہ انجام کیا ہوگا۔جنہیں پہاڑ بلاتے ہیں وہ ان جگہوں سے نہیں گزرتے جہاں سہولیات ہوتی ہیں۔جہاں سڑک ختم ہوتی ہے وہاں سے ان کا سفر شروع ہوتا ہے۔سڑک موجود ہو تو وہ لوگ بھی پہنچ جاتے ہیں جنہیں پہاڑ نہیں بلاتے۔ایسے ہی لوگوں کی وجہ سے سیف الملوک کی پریوں نے کوچ کرلیا ہے۔ڈاکٹر اسما کی طبیعت پہلے بھی خراب ہوئی تھی، پھر بھی چلی گئی۔ایسے لوگوں کی موت پر جب ہم سہولیات کا رونا روتے ہیں تو مجھے لگتا ہے ہم کوہ پیمائوں کی بے توقیری کر رہے ہیں۔جنہیں پہاڑ بلاتے ہیں وہ کسی کی ذمہ داری پر نہیں جاتے۔ہم اسما کی لاش کو زمین پر لانا چاہتے تھے،مگر وجود سے الگ ہوکر ایک طرف بیٹھی ہوئی اسما کی روح سے کسی نے پوچھا؟ کوئی پوچھتا تو یہی کہتی، میرا یہ وجود بھی یہیں رہنے دو۔کھلے آسمان کے نیچے پڑا ہے، برف کا کفن پڑ رہا ہے۔یہی تو میں نے تصور کیا تھا۔جیتے جی یہ ممکن نہیں تھا۔اس کیلئے مجھے مرنا پڑا ہے۔
برفانی ٹیلے کے عین نیچے دکھنے والی سید بادشاہ کی لاش پر دکھ بجاہے، مگر ماتم بے جاہے۔اسے کسی نے قتل نہیں کیا۔اس نے خوشی خوشی اپنی فینٹسی کی قیمت ادا کی ہے۔اسے جاتے ہوئے علم تھا کہ کوہ پیمائوں کا مقدر برف کا کفن ہوتا ہے۔اگر اسے علم نہیں تھا تو یقیناََ نہیں جانا چاہیے تھا۔اگر کسی کو کوہ پیمائوں کی ریت روایت کا اندازہ نہیں ہے، صرف انسٹاگرام کی تصویریں اور ریلیں ہی موٹیویشن کا سامان ہیں، تو وہ بھی نہ جائے۔یہ شوق پالنے سے پہلے رولز آف گیم اور فینٹسی کا احترام کرنا سیکھنا ہوگا۔ایورسٹ کے اطراف میں دو سو سے زیادہ کوہ پیمائوں کی لاشیں پڑی ہیں۔ایورسٹ پر گرین بوٹس کسی چوک کا نام نہیں ہے۔وہاں ایک کوہ پیما تیس برس سے ہرے جوتے پہن کر سو رہا........
