menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

گل نو خیز اختر

37 0
08.09.2026

لاہور میں ایک نئی فورس کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جو سڑکوں پر کچرا پھینکنے والوں کو جرمانے کریگی۔ اس پر کئی لوگ بہت غصے میں ہیں کہ یہ تو عوام کو تنگ کرنے والی بات ہے۔ سبحان اللہ۔ گویا کچرا پھینکنا درست ہے اور اس سے منع کرنا غلط۔ نصف ایمان بھی کئی لوگوں کو قبول نہیں۔ یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ لوگ جوس کے پیکٹ، سگریٹ، ٹشو پیپر اور دیگر کچر ا گاڑیوں سے سڑک پر پھینک دیتے ہیں۔ کیا اس عمل کی اجازت دینی چاہئے؟ ہم جس ماحول میں پلے بڑھے ہیں ہمیں لگتاہے کہ یہ سب چیزیں ہمارا کمفرٹ زون ہیں لہذا ہمیں اِن سے نہ روکا جائے۔ نہ ہیلمٹ پہننے کی پابندی ہو، نہ سیٹ بیلٹ لگانے کی، گاڑیاں دھواں دیتی پھریں، ٹریفک اشاروں پر کوئی نہ رکے، جہاں جی چاہے کچر اپھینک دیا جائے اور یوں ہمیں مزے کی زندگی جینے دی جائے۔ صاف ستھری اور ترتیب والی زندگی زیادہ تر لوگوں کو زہر لگتی ہے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ یہ عادت بھی حکومت کی نرمی کی وجہ سے پختہ ہوئی ہے۔ اس عادت کا توڑ یہی ہے کہ اب اس سے سختی سے نمٹا جائے۔ آپ نے نوٹ کیا ہوگا کہ جب شروع شروع میں گاڑی میں سیٹ بیلٹ پہننے کی پابندی لگی تھی تو لوگوں کو یہ بہت عجیب سا لگتا تھا لیکن اب یہ حالت ہے کہ سیٹ بیلٹ نہ لگائی ہو تو عدم تحفظ کا احساس ہونے لگتاہے۔ دنیا بھر کی مثالیں دینے والوں کو اپنے ملک کا نظام بڑی تکلیف دیتاہے۔ ایسے لوگوں کو آپ جونہی مہذب ملک کی مثال دینگے یہ فوراً کہیں گے کہ فلاں فلاں کام بھی تو مہذب ملک جیسا ہونا چاہئے۔ گویا اگر ایک ہی رات میں کایا پلٹ سکتی ہے تو ٹھیک ورنہ دھیرے دھیرے سدھار کی طرف جانا منظور نہیں۔

موسم انگڑائی لے رہا ہے۔ بچت کا سیزن شروع ہوا چاہتا ہے۔ بجلی کا بل معقول سطح پر آنے کیلئے تیار ہے۔حبس اور گرمی سے کملائے ہوئے چہرے کھل اٹھیں گے۔سرد رُتوں کا محبتی موسم اپنی آہٹ سے ایک سنسنی سی پیدا کر رہا ہے۔راتیں چھوٹی، دن لمبے، اونی کپڑے، گرم شالیں، دھواں دیتے مشروب اور ڈرائی فروٹ کی چٹختی کڑکڑاتی آوازیں اور دُھند میں لپٹا جادوئی منظر۔ سردیوں کی گاڑی اسٹیشن پر پہنچنے ہی والی ہے۔ استقبال کی تیاریاں کرلیجئے۔سکون اور سکوت بھری راتیں چند دنوں کے فاصلے پر ہیں۔ اگرچہ کچھ مسائل بھی ہوں گے مثلاً گیس شاید بہت کم دستیاب ہو۔ ٹھنڈا پانی کپکپی طاری کرے۔پھلوں کی ورائٹی کم ہو جائے، بدلتے موسم کی بیماریاں یکدم حملہ آور ہوں لیکن مجموعی طور پر سردیاں 75فیصد بہت اچھی ہوتی ہیں۔ اچھے کپڑے پہننے کو دل کرتا ہے۔ بوٹ اور جرابوں میں زیادہ طمانیت محسوس ہوتی ہے۔ پنکھے بندہونے کی وجہ سے ایک دوسرے کی آوازیں زیادہ بہتر سنائی دینے لگتی ہیں۔ بجلی چلی بھی جائے تو چہرے کی مسکراہٹ نہیں جاتی، نیند خراب نہیں ہوتی۔ ٹرانسفارمر نہیں اُڑتے۔ بار بار ٹھنڈے پانی کی طلب نہیں ہوتی۔ خواتین کچن میں خوشی خوشی کام کرنا پسند کرتی ہیں۔ رضائیاں اور لحاف تحفظ سے بھرپور گرمائش کا احساس دلاتے ہیں۔ اسموکر حضرات سردیوں کا ایک اور بڑا فائدہ بتاتے ہیں کہ گرمیوں میں تو سارا سگریٹ پنکھا پی جاتا ہے البتہ سردیوں میں یہ آخری کش تک ساتھ نبھاتا ہے۔

ایک معروف ایکٹر کا دعویٰ اِن دنوں سوشل........

© Daily Jang