پیر فاروق بہاو الحق شاہ
یوں لگتا ہے جیسے پاکستانی حکمران عالمی حالات سے بے خبر ہیں یا پھر انہیں اپنے شہریوں کی زندگیوں کی پروا نہیں۔ آج کل زیر بحث موضوعات میں نئے صوبے،بلدیاتی انتخابات، اسلام آباد کی انتظامی حیثیت،صدر زرداری اور میاں نواز شریف کی بیرون ملک روانگی، نام نہاد اینٹی کرپشن مہم،اور اس نوعیت کے دیگر موضوعات شامل ہیں لیکن دنیا میں ایک خطرناک موسمیاتی تبدیلی وقوع پذیر ہونے جا رہی ہے جسکے براہ راست اثرات پاکستان پر مرتب ہوں گے اسکی تیاری تو دور کی بات اس پر بات ہی نہیں ہو رہی۔ چند ماہ قبل سیم نالوں کی تباہی کے اثرات ابھی باقی ہیں،پنڈی اسلام آباد میں اربن فلڈنگ معمول بنتی جارہی ہے،لوگوں کے کاروبار تباہ ہو رہے ہیں لیکن حکومتی سطح پر اسکا سامنا کرنے کے آثار تک دکھائی نہیں دے رہے۔دنیا ایک ایسے موسمیاتی خطرے کے سامنے کھڑی ہے جسے محض موسم کی ایک خبر سمجھ کر نظر انداز کرنا خطرناک ہوگا۔ ایل نینو دراصل بحرالکاہل کے سمندری درجہ حرارت اور ہواؤں کے قدرتی نظام میں بڑی تبدیلی کا نام ہے۔ سمندر کے ایک وسیع حصے میں غیر معمولی گرمی پیدا ہوتی ہے تو اسکے اثرات صرف بحرالکاہل تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی فضائی تحرک، بارشوں، درجہ حرارت اور موسموں کے معمولات متاثر ہوتے ہیں۔ جسکے نتیجے میں کہیں خشک سالی، کہیں شدید بارشیں، کہیں سیلاب اور کہیں غیر معمولی گرمی کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ایل نینو کا اثر دنیا کے تمام علاقوں پر یکساں نہیں ہوتا۔ بعض خطوں میں معمول سے زیادہ بارشیں اور سیلاب آسکتے ہیں، جبکہ دوسرے علاقوں میں خشک سالی اور پانی کی قلت پیدا ہوسکتی ہے۔ اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام UNEP نے بھی 2026ء میں دنیا کو بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور ایل نینو کے ممکنہ امتزاج کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔
پاکستان کے لئے اصل خطرہ
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں موسمیاتی خطرات پہلے ہی معیشت، زراعت اور انسانی زندگی کو متاثر کررہے ہیں۔ شدید گرمی، غیر معمولی بارش، سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور گلیشیرز سے متعلق خطرات ہمارے سامنے موجود ہیں۔ پانی کا بحران :پاکستان کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہم ایک ہی وقت میں سیلابی پانی سے تباہ بھی ہوتے ہیں اور پانی کی قلت کا شکار بھی۔بارش کا بہت سا پانی ذخیرہ کیے بغیر سمندر میں چلا جاتا ہے، جبکہ چند ماہ بعد زراعت، صنعت اور گھریلو استعمال کے لیے پانی کم پڑنے لگتا ہے۔ زیرزمین پانی کے ذخائر پر بھی مسلسل دباؤ بڑھ رہا ہے۔اگر ایل نینو کے نتیجے میں بعض علاقوں میں مون سون کمزور پڑتا ہے تو یہ مسئلہ مزید سنگین ہوسکتا ہے۔ زراعت متاثر ہوگی، آبپاشی کا دباؤ بڑھے گا اور خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہوگا۔گرمی اور موسم کی شدت :شدید گرمی پاکستان کیلئے پہلے ہی ایک بڑا خطرہ بن چکی ہے۔ اگر عالمی درجہ حرارت کے بلند رجحان کیساتھ طاقتور ایل نینو بھی شامل ہوجائے تو ہیٹ ویوز کی شدت، دورانیہ اور انسانی صحت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔اس کا جواب صرف یہ نہیں کہ گرمی آنے پر اسکول بند کردیئے جائیں۔ ہمیں ہیٹ ویو سے نمٹنے کیلئے مستقل منصوبہ بندی کی ضرورت ہے،اسی طرح اسپتالوں میںہنگامی حالت کا سامنا کرنیکی قبل از وقت تیاری، شہروں شجر کاری، صاف پانی کی دستیابی اور معاشرے........
