سہیل وڑائچ
پنجابی رہتل(Way of life)کی جڑیں ہزاروں سال پرانی تہذیب وثقافت میں جڑی ہوئی ہیں پنجاب کی عام زندگی میں منجی (چارپائی) کی بڑی اہمیت تھی اس لئے منجی کو کئی محاوروں اور استعاروں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے منجی کے حوالے سے سب سے مشہور فقرہ’’ منجی کتھے ڈاہواں‘‘ فلم جی دار میں احمد رشدی کے گیت کا مزاحیہ فقرہ تھا، ’’ ہاں اوئے، میں منجی کتھے ڈاہواں‘‘ بعد ازاں1974ء میں پاکستان میں ایک پنجابی مزاحیہ فلم’’ منجی کتھے ڈاہواں‘‘ کے نام سے بھی بنی اسکی کاسٹ میںمنور ظریف، رنگیلا، سنگیتا، صاعقہ اور عشرت چودھری شامل تھیں۔ رہتل میں چونکہ ثقافت، سوچ فکر اور روزمرہ کے تجربات شامل ہوتے ہیں اس لئے ان پنجاجی فقروں،محاوروں اور گیتوں میں بہت سے معانی چھپے ہوتے ہیں یہ فقرے اہم تو ہوتے ہی ہیں مگر کسی فقرے کی اہمیت مخصوص حالات میں کبھی زیادہ اور کبھی کم ہوتی رہتی ہے ۔آئیے بدلتے ہوئے حالات کومنجی سے جڑے فقروں اور محاوروں سے سمجھنے کی کوشش کریں۔
تازہ حالات میں زبان زدعام (زبان چڑھیا/(buzzwordمحاورے’’ منجی تھلے ڈانگ پھیرنا‘‘ اور منجی ٹھوک دینا‘‘ ہیں سیاست میں سب سے برا حال آج کے اہل اقتدار کا ہے آئے دن ان کی ’’ منجی ٹھوکی‘‘ جارہی ہے مگروہ اتنے بے بس اور لاچار نظر آرہے ہیں کہ ’’ ٹھوکے‘‘ جانے کے باوجود اونچی آواز میں رو بھی نہیں پارہے صاف لگ رہا ہے کہ وہ اپنے آنسو چھپا رہے ہیں عام رواج تو یہی ہے کہ صرف اپوزیشن کی منجی ٹھکتی ہےجبکہ اہل اقتدار محفوظ ومامون آرام دہ منجیوں پر براجمان رہتے ہیں مگر اس بار عجیب رسم یہ چلی ہے کہ ری سیٹ منصوبے کی خاطر منجی تھلے ڈانگ پھیری جارہی ہےاور اس میں اگر اپنوں کی بھی ’’ منجی ٹھک‘‘ رہی ہے تو کسی کو کوئی پروا نہیں۔ اہل حکم، دباؤ اور احساسات سے بے نیاز ہوجاتے ہیں اپنا یا پرایااوراتحادی یا مخالف،اہم نہیں ہوتے ایجنڈا اہم ہوتا ہے اس میںکسی کی ’’منجی چکی جائے‘‘ یا’’ منجی بسترا گول ہوجائے‘‘ انہیں اس سے نہ غرض ہوتی ہے اور نہ اسکی پروا ۔ اسی لئے تو وہ اہل حکم ہوتے ہیں اور باقی سب اہل ظلم۔
پنجابی رہتل میں منجی کے ساتھ ’’ڈانگ‘‘ اور سوٹا‘‘ بھی بڑے بامعنی الفاظ ہیں ڈانگ اور سوٹا دونوں کا مطلب ڈنڈا ہے ڈانگ البتہ سوٹے سے بڑی اور لمبی ہوتی ہے پنجابی کا مشہور محاورہ ہے ’’جیدھی ڈانگ اوہدی مَجھ’’ یعنی جس کے پاس ڈنڈا ہے بھینس بھی اسکی ہے اردو میں یہی محاورہ جس کی لاٹھی اسکی بھینس کے حوالے سے مشہور ومعروف ہے۔ اس وقت صوبے بنانے کی جو سیاست ہورہی ہے اس میں ڈانگ سوٹا چلے گا مگر اہل حکم کو اہل ظلم کے اس خدشے کی پروا نہیں۔ اہل حکم کے ایک پرستار نے کہا نظام کی بہتری کیلئے سوپچاس جانوں کی قربانی کوئی بڑی تو نہیں ہوتی۔ لگ تو یوں رہا ہے کہ ’’ڈانگ چک لئی گئی اے‘‘(لڑائی کی تیاری ہے) اور ڈانگ سے ہی سب کو سیدھا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا جارہا ہے دوسری طرف اہل ظلم ’’ڈانگیں کھانے‘‘ کیلئے بھی تیار بیٹھے ہیں گو حکومتی منجی کے مستقبل کا حال اچھا نظر نہیں آرہا۔
پنجاب کی شہری اور اشرافیہ کی زندگی میں اب منجی کا کردار کم ہوگیا ہے کیونکہ بیڈروم میں تو بیڈ ہوتے ہیں یا امراء پلنگ استعمال کرتے ہیں۔عام آدمی کی زندگی میں پہلے بھی منجی اہم تھی اور دیہاتی زندگی میں یہ آج بھی اہم ترین ہے خدا کی مخلوق انسان بیمار ہوتے ہیں اور انسان کی تخلیق’’ منجی‘‘ کئی بار خراب بھی ہوجاتی ہے، جس طرح انسان کو نزلہ اور زکام لگتا ہے تو گولی کھاکریا جوشاندہ پی کر آرام آجاتا ہے اسی طرح اکثر منجی کی........
