انصار عباسی
پاکستان میں آج کل ایک نئی بحث زور پکڑ رہی ہے۔ نئے صوبے بنائے جائیں، موجودہ صوبوں کو مزید تقسیم کیا جائے یا نئے انتظامی یونٹس قائم کیے جائیں۔ وفاقی وزراء سے لے کر سیاسی رہنماؤں اور دانشوروں تک، ہر کوئی اپنی اپنی دلیل دے رہا ہے۔ کوئی بڑے صوبوں کے انتظامی مسائل کی طرف توجہ دلاتا ہے، کوئی چھوٹے صوبوں کو بہتر حکمرانی کا ذریعہ سمجھتا ہے اور کوئی کہتا ہے کہ مسئلہ نئے صوبے نہیں بلکہ گورننس ہے۔ اس بحث میں یہ نکتہ بھی اٹھایا گیا کہ چھوٹے انتظامی یونٹس ہونے چاہئیں، مگر بات صرف پنجاب کی تقسیم تک محدود نہیں ہونی چاہیے پورے ملک کو اس تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ آئین اور جمہوریت کی بالادستی کی بات بھی کی جانی چاہیے اور اسٹیبلشمنٹ اور موروثیت کی زیرنگراں سیاسی جماعتوں کو بھی اپنے آپ کےبجائے جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہئے۔
یہ سب باتیں اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن اس پوری بحث میں مجھے ایک بنیادی سوال کہیں نظر نہیں آتا۔ پاکستان آخر کس بنیاد پر قائم ہوا تھا اور آج ہماری اجتماعی شناخت کی بنیاد کیا ہے؟ یہ سوال اسلئے اہم ہے کہ پاکستان محض ایک جغرافیائی خطہ یا چار نسلی اکائیوں کو ملا کر بنایا گیا ملک نہیں تھا۔ اس ریاست کے قیام کے پیچھے ایک واضح نظریاتی تصور موجود تھا۔ قراردادِ مقاصد سے لیکر موجودہ آئین تک، ریاست کی اسلامی شناخت کو آئینی حیثیت دی گئی۔ آئین پاکستان صرف یہ نہیں کہتا کہ پاکستان ایک وفاق ہے اور اس میں پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے صوبے ہیں۔وہ ریاست کے اسلامی تشخص، قرآن و سنت سے متعلق اصولوں اور اسلامی طرزِ زندگی کیلئے ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری کی بھی بات کرتا ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ جب ہم آئین کی بالادستی کی بات کرتے ہیں تو آئین کے کس حصے کی بالادستی؟ ہم اٹھارویں ترمیم کی بات کرتے ہیں، اختیارات کی صوبوں کو منتقلی کی بات کرتے ہیں، این ایف سی ایوارڈ، وسائل کی تقسیم، مرکز اور صوبوں کے تعلقات، نئے انتظامی یونٹس اور صوبائی خودمختاری پر بحث کرتے ہیں۔ لیکن آئین کے ان حصوں پر بحث سے کتراتے ہیں جو پاکستان کی اسلامی شناخت اور ریاست کی ذمہ داریوں سے متعلق ہیں۔ یہ ایک عجیب تضاد ہے۔ ہم کہتے ہیں آئین پر عمل ہونا چاہیے، مگر پھر آئین کی ان دفعات پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں جو ہمارے لیے شاید سیاسی طور پر مشکل سوال پیدا کرتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جمہوریت مضبوط ہونی چاہیے۔ بالکل ہونی چاہیے۔ لیکن جمہوریت صرف انتخابات کا نام نہیں۔ آئین مقامی حکومتوں کے نظام کو بھی اہمیت دیتا ہے۔ اگر اختیارات واقعی عوام تک منتقل ہوں، بلدیاتی ادارے بااختیار ہوں، انکے انتخابات باقاعدگی سے ہوں اور شہری کو اپنے بنیادی مسائل کے حل کیلئے صوبائی دارالحکومت کی طرف نہ دیکھنا پڑے تو شاید نئے صوبوں کی ضرورت کا ایک بڑا جواز ہی کم ہوجائے۔ اسی طرح ہم کہتے ہیں کہ اٹھارویں ترمیم نے صوبوں کو اختیار دیا، لیکن سوال یہ بھی تو ہونا چاہیے کہ صوبوں نے یہ اختیار نچلی سطح تک کتنا منتقل کیا؟ اگر صوبائی حکومت اسلام آباد سے اختیارات لیکر انہیں اپنے پاس ہی رکھ لے تو عام آدمی کیلئے مرکز اور صوبے کے درمیان فرق کیا رہ جاتا ہے؟ تاہم اس سے بھی بڑا سوال ہماری شناخت کا ہے۔ آج اگر انتظامی بنیادوں پر پنجاب مزید تقسیم ہوتا ہے، سندھ میں نئے صوبے بنتے ہیں، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کو مزید انتظامی یونٹس میں تقسیم کیا جاتا ہے تو یہ فیصلہ انتظامی ضرورت کے تحت ہوسکتا ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے بہتر........
