menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

ڈاکٹر صغرا صدف

35 0
07.09.2026

کارل مارکس، ایمانوئل کانٹ، گوئٹے، شلر، ہیگل، لائب نٹز، شوپن ہاور، نطشے، ہائیڈیگر، ہیبرماس، تھامس مان، ہرمن ہیسے، برٹولٹ بریخت ، این میری شِمل اور ہائنرش ہائنے جیسے فلسفیوں، شاعروں، ادیبوں اور مفکرین کا ملک جرمنی اپنی معاشی ترقی، سائنسی کامیابیوں اور صنعتی قوت کے ساتھ ساتھ فکری، ادبی اور تہذیبی عظمت کی وجہ سے بھی دنیا بھر میں ممتاز حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ سرزمین ہے جہاں فلسفے نے نئے زاویے اختیار کیے، ادب نے انسانی روح کے گہرے راز آشکار کیے اور جہاں سے اٹھنے والی فکری تحریکوں نے پوری دنیا کے سیاسی، سماجی اور ثقافتی منظرنامے کو متاثر کیا۔

یورپ کے سفر میں جرمنی میں میرے زیادہ قیام کے پیچھے شازیہ نورین کی رفاقت اور میزبانی کا جذبہ تھا مگر یہاں آ کر احساس ہوا کہ درحقیقت یہ سفر ان تمام شخصیات سے ایک معنوی ملاقات بھی تھا جنہیں میں برسوں سے پڑھتی رہی ہوں، جن کے خیالات میرے وجدان،ادراک اور شعور کا حصہ بنتے رہے ہیں کیونکہ یہ وہ فلسفی، ادیب اور مفکر تھے جنہوں نے اپنے عہد کے مروجہ تصورات کو چیلنج کیا اور انسان کو سوچنے کے نئے زاویے عطا کیےان کے شہروں، یادگاروں اور تاریخی مقامات کو دیکھنا محض سیاحت نہیں تھا بلکہ ایک فکری اور روحانی تجربہ تھا۔

جب میں کہتی ہوں کہ میں ان سے ملی تو اس سے مراد ان کی یادگاروں اور ان کے ماحول میں موجود اس احساس سے ملاقات ہوتی ہے جو مجھے آج بھی زندہ محسوس ہوتا ہے، مجھے اپنی پسندیدہ ہستیوں کے مجسمے،گھر یا گلیوں میں کھڑے ہو کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت کی سرحدیں مٹ گئی ہوں اور میں براہِ راست تاریخ کے کسی باب میں داخل ہو گئی ہوں۔

خصوصاََ وہ فکر جس نے روایت، اخلاقیات اور انسانی ارادے کے بارے میں دنیا بھر میں نئی بحثوں کو جنم دیا،ان مقامات پر مزید قریب محسوس ہونے لگتی ہے،ایسے لمحوں میں ان مفکرین کی جدوجہد اور خوابوں کے رستے میں کھڑے ہجوم کے سوالات اور فتوےبھی فضا میں گونجتے محسوس ہوئے تو تاریخ کتابوں کے اوراق سے نکل کر گلیوں، عمارتوں اور یادگاروں میں سانس لیتی دکھائی دی۔

کارل مارکس کی گلیوں میں چلنا، گوئٹے کے شہر کی فضا میں سانس لینا، ہیگل، شوپن ہاور اور نطشے کی یادوں سے وابستہ مقامات کو دیکھنا ایک دلکش اور یادگار تجربہ تھا، یہ صرف چند تاریخی مقامات کی سیر نہیں تھی بلکہ اپنے فکری سفر کے ان سنگِ میلوں سے دوبارہ ملاقات تھی جنہوں نے میرے شعور کی تشکیل میں کہیں نہ کہیں اپنا کردار ادا کیا تھا۔

جرمنی کی صنعتی ترقی بھی اپنی مثال آپ ہے،یہاں کی آٹوموبائل صنعت دنیا بھر میں معیار، جدت اور رفتار کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ تیز رفتار گاڑیوں کے باوجود ٹریفک قوانین کی پابندی اور نظم و ضبط قابلِ تعریف ہے،فرینکفرٹ پہنچتے ہی باجوہ گروپ کے زیرِ اہتمام ایک شاندار بین الاقوامی مشاعرے میں شرکت کا موقع ملا جہاں بہت سے ادبی دوستوں سے ملاقات ہوئی۔

جرمنی کی سرحدیں کئی یورپی ممالک سے ملتی ہیں اور ان ممالک کے درمیان آمدورفت کی آسانی یورپی اتحاد کی ایک خوبصورت مثال ہے، ایڈووکیٹ زبیر خان، اعجاز پیارا اور ملک راشد کی معیت میں ہالینڈ کے شہر........

© Daily Jang