چوہدری شفیق احمد
قوموں کی زندگی میں کبھی ایسے غیرمعمولی لمحات آتے ہیں جب عالمی حالات ان کیلئے ان کے معاشی حجم اور سیاسی وزن سے کہیں زیادہ وسیع امکانات پیدا کر دیتے ہیں۔ دانش مند قومیں ایسے مواقع کو وقتی کامیابی سمجھ کر جشن منانے کے بجائے مستقل قومی طاقت میں تبدیل کرتی ہیں۔ پاکستان آج شاید اسی تاریخی موڑ پر کھڑا ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک عالمی سطح پر اس کا ذکر دہشت گردی، معاشی کمزوری، سیاسی انتشار اور سفارتی تنہائی کے حوالے سے ہوتا تھا، مگر حالیہ مہینوں میں وہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک مؤثر سفارتی قوت، قابلِ اعتماد ثالث اور اہم تزویراتی شراکت دار (Strategic Partner) کے طور پر ابھرا ہے۔پاکستان کی اس سفارتی واپسی کا اصل مظہر کوئی ایک دفاعی معاہدہ، سربراہی ملاقات یا رسمی اعلامیہ نہیں، بلکہ باہم متحارب ممالک کے ساتھ بیک وقت اعتماد کا رشتہ برقرار رکھنا ہے۔ امریکہ اور ایران کی جنگ نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لینے کا خطرہ پیدا کر دیا تھا۔ خلیجی ریاستوں کی سلامتی، آبنائے ہرمز میں جہاز رانی، عالمی تیل کی ترسیل اور بین الاقوامی معیشت شدید خطرات سے دوچار ہوگئی تھیں۔ ایسے نازک وقت میں پاکستان نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، ایران، امریکہ اور چین کیساتھ اپنے تعلقات کو کسی ایک فریق کی حمایت کے بجائے جنگ روکنے اور مفاہمت کی راہ ہموار کرنے کیلئے استعمال کیا۔پاکستان سعودی عرب کا دفاعی و اقتصادی شراکت دار، قطر کا قابلِ اعتماد دوست، ترکیہ کا دیرینہ ساتھی، ایران کا اہم ہمسایہ اور چین کا تزویراتی رفیق ہے، جبکہ واشنگٹن کے ساتھ بھی اس نے مؤثر رابطے بحال رکھے۔ متصادم مفادات رکھنے والی ان طاقتوں کا اعتماد بیک وقت حاصل کرنا معمولی کامیابی نہیں۔ اس نے ثابت کیا کہ پاکستان کی جغرافیائی حیثیت دانش مندانہ خارجہ پالیسی کے ذریعے سفارتی قوت بن سکتی ہے۔اس کامیابی کا پہلا بڑا مظاہرہ اس وقت ہوا جب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی قیادت میں امریکی وفد ایرانی نمائندوں سے مذاکرات کیلئے اسلام آباد پہنچا۔ حالتِ جنگ میں موجود دو ممالک پاکستان کو مذاکرات کیلئے قابلِ قبول مقام سمجھنے پر آمادہ ہوئے۔ مذاکرات طویل رہے اور جوہری پروگرام، پابندیوں اور آبنائے ہرمز سمیت اہم معاملات پر اختلافات برقرار رہے۔ سفارت کاری کی کامیابی کا پیمانہ یہ نہیں کہ پہلی نشست میں تمام تنازعات حل ہوجائیں۔ اصل کامیابی یہ تھی کہ پاکستان نے جنگ کے درمیان مذاکرات کا دروازہ کھولا اور فریقین کا رابطہ ٹوٹنے نہیں دیا۔پاکستان اور قطر کی مسلسل ثالثی بالآخر 18جون 2026ء کو ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ کی صورت میں سامنے آئی، جسے امریکہ اور ایران نے قبول کیا۔ یہ دستاویز محض جنگ بندی کا اعلان نہیں تھی بلکہ مزید مذاکرات اور دیرپا تصفیےکیلئے ایک باقاعدہ سفارتی ڈھانچے کی بنیاد بنی۔ اس پیش رفت نے پاکستانی ثالثی کو علامتی ملاقاتوں اور تصویری سفارتکاری سے نکال کر ایک قابلِ عمل امن عمل میں تبدیل کر دیا۔اگلا مرحلہ سوئٹزرلینڈ کے علاقے برگن اسٹاک میں منعقد ہونے والا لیک لوسرن سربراہی اجلاس تھا، جہاں امریکہ اور ایران کے نمائندوں نے پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کیے۔ فریقین نےساٹھ دن کے اندر حتمی معاہدے کی جانب پیش رفت کیلئے روڈمیپ، اعلیٰ سطحی کمیٹی اور فنی مذاکرات کے طریقۂ کار پر اتفاق کیا۔ جوہری پروگرام، پابندیوں، نگرانی اور تنازعات کے حل جیسے پیچیدہ موضوعات کو مرحلہ وار طے کرنے کی کوشش کی گئی۔پاکستان........
