سہیل وڑائچ
زلزلہ آنے والا ہو تو حشرات الارض کو پہلے سے اندازہ ہو جاتا ہے۔ کیڑیاں (چیونٹیاں) بے کلی اور بے چینی میں اِدھر اُدھر بھاگنے لگتی ہیں مگر کبوتر بلّی کو آتا دیکھ کر آنکھیں بند کر لیتاہے۔ ہونی، ہونے کو تھی سو ہو کر رہی، نقارہ بج چکا۔ سیٹی کی بلند آواز ہر کس و ناکس کو قطار میں لگنے کا واضح اشارہ دے رہی ہے۔ اب گو مگو کا وقت گزر چکا، اِدھر یا اُدھر؟ عرصہ دراز سے اس ہونے کی تیاری کی جا رہی تھی خبردار، ہوشیار،تیار جون کے ابتدائی دنوں میں لکھ کر آنیوالے واقعات کو کھوجنے کی طالب علمانہ کوشش کی تھی۔ اب توپےدرپے ہونیوالے واقعات نے رفتار پکڑ لی ہے، سیاسی حکومت سے معیشت اور سیاسی بیانیے تک کے حوالے سے جو کوتاہیاں اظہر من الشمس تھیں انکا کوئی نہ کوئی نتیجہ تو نکلنا تھا۔ کاٹھ کی حکومتی ہنڈیا کے دو بڑے اتحادی نون اورپپلیےوعدے و عید کرکے اکٹھے چل رہے تھے مگر دونوں کی زلزلےکے حوالے سے کوئی تیاری تھی اور نہ ہی اب ہے۔ کاٹھ کی ہنڈیا چوراہے میں پڑی ہے اور اسے پتھر پڑ رہے ہیں۔ کہانی وہی پرانی ہے لوہے اور پارس کی قربت کی۔ برصغیر کی قدیم ہندی اوراردو صوفیانہ روایت میں لوہے اور پارس کا استعارہ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اسکی بنیاد ’’پارس‘‘ پتھر کے اس تصوراتی خیال پر ہے کہ پارس کے لمس اور چھو جانے سے لوہا سونا بن جاتا ہے۔ سائنس میں کوئی ایسا ثابت شدہ پتھر نہیں ہے مگر لوہے اور پارس کی کہانی اساطیری اور ادبی دنیا میں مثال کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے حالات کو پڑھنے اور آگے کا نتیجہ نکالنے کیلئے اسی کہانی سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
پارس کی نسبت سے پرانے کیمیا گروں کا خیال تھا کہ حیوان ایک پتھر کی شکل میں منقلب ہو چکا ہے۔ گندھک اور پارہ ملا یہ تصوراتی سرخ رنگ کا پتھر لوہے کو سونا بنا سکتا تھا۔ یہ اساطیری کہانی اس قدر مقبولِ عام تھی کہ برطانیہ کے بادشاہ ہنری ششم نے 1455ء میں ایک باقاعدہ کمیشن قائم کیا تاکہ لوہے سے سونا بنا کر سلطنت کا قرضہ ادا کر سکے۔ ظاہر ہے کہ یہ کمیشن تو ناکام ہوا مگر وُہ تصور مشرق و مغرب میں اب بھی عام ہے۔ سنیاسی اب بھی اس پتھر کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیں تاکہ وُہ راتوں رات امیر ہو جائیں۔ ادبی اور صوفی روایت میں پارس، طاقت، اختیار اور دولت کا استعارہ ہے جبکہ لوہا، عام یا خام کی علامت ہے۔ لوہا عام لوگوں کا استعارہ ہے مگر جب انہیں پارس چھو جائے تو وُہ سونا بن کر خاص لوگوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔حالات معمول کے مطابق ہوں تو کوئی غور نہیں کرتا کہ کون سا لوہا کون سے پارس سے بارِ خاص حاصل کرچکا ہے مگر غیر معمولی حالات ہوں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا ہے۔ قیامت کبریٰ برپا ہو گی تو ماں بچے کو نہیں سنبھال سکے گی۔ سیاسی قیامت صغریٰ بپا ہے، تو صفیں ٹوٹ چکی ہیں، حد تو یہ ہے کہ وفاقی کابینہ بھی یک آواز نہیں ہے۔
کچھ لوہے بھاگ کر پارس کی طرف ہو چکے ہیں جبکہ ’’لوہوں کے لوہے‘‘ کا پارٹی اور اصلی موقف ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ۔ پپلیےلوہے گزشتہ 17 سال سے سندھ میں راج کر رہے ہیں، انہیں پارس اس قدر راس آیا کہ وہ خود کو پارس سمجھنے لگے مگر لوہا لوہا ہوتا ہے اور پارس، پارس۔ ضرورت اور ترجیح بدل جائے تو پارس کو لوہا بدلنے میں دیر نہیں لگتی، اسے ہر وقت، ہر طرح کے لوہے دستیاب ہوتے ہیں۔اقتدار اور طاقت کی کرسی وُہ پارس ہے جو بڑے سے بڑےسخت لوہے کو نرم کر دیتی ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے کہ ماضی کا سنگ توڑ لوہا، خود ہی تڑ مڑ جاتا ہے۔ پپلیے لوہے اب دوراہے پر کھڑے ہیں، ایک طرف پارس کی رعنائی اور چمک ہے اور دوسری طرف نظریات اور سیاست کی قربانی۔ پارس سے لگے رہتےہیں تو چمک اور شان و شوکت برقرار رہے گی لیکن قدموں کے........
