نواز رضا
کم و بیش 35سال تک میدان سیاست میں خطہ پوٹھوہار کے نامور سپوت چوہدری نثار علی خان کاطوطی بولتا رہا۔ مسلم لیگ (ن)کے 80فیصد فیصلے انکی مرضی کے مطابق ہوتے لہٰذا پارٹی میںانہیں نواز شریف کے نائب کا درجہ حاصل رہا۔ 8سال قبل ان کے نواز شریف سے سیاسی راستے کیاجدا ہوئے انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اگرچہ انہوں نے پچھلے 8سال میں دو انتخابات لڑے لیکن عملی سیاست سے الگ ہو کر چپ کا روزہ رکھ لیا کسی ایسے سیاستدان کی ’’خاموشی‘‘ قیامت سے کم نہیں جس کا بیان اخبارات اور ٹی وی چینلز کی شہ سرخی بنتی ہو۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے ان سے کم ہی سہی لیکن براہ راست رابطہ رہتا ہے کبھی ان کا فون آجاتا ہے کبھی ان کی کسی غمی میں شرکت کے موقع پر ملاقات ہو جاتی ہے وہ کوئی آن دی ریکارڈ بات نہیں کہتے تاہم آف دی ریکارڈ گفتگو میں ان کے آئندہ کے سیاسی عزائم سے آگاہی ہوتی رہتی ہے۔ چوہدری نثار علی خان کسی صحافی سے ملاقات سے گریز کرتے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب کہنے کو کچھ نہیں تو ملاقاتوں کا کیا فائدہ؟ اگرچہ چوہدری نثار علی خان کے صحت کے مسائل ہیں لیکن انہوں نے کبھی صحت کے مسائل کو اپنی کمزوری نہیں بننے دیا روزانہ گھنٹہ بھر رننگ کرتے ہیں شاید یہی ان کی صحت کا راز ہے۔ گزشتہ ہفتہ چوہدری نثار علی خان جانب سے ملاقات کا پیغام موصول ہوا کہ ’’آپ کی باتیں سنوں گا لیکن میرے پاس کہنے کو کچھ نہیں‘‘ اسلام آباد کلب میں ہونیوالی ملاقات میں سینئر صحافی حافظ طاہر خلیل، عامر الیاس رانا اور طارق عزیز بھی شامل تھے جبکہ انہوں نے اپنے سیاسی جانشین چوہدری تیمور علی خان کو بھی خاص طور پر بلا رکھا تھا جو امریکہ میں اپناسارا بزنس سمیٹ کر پاکستان واپس آگئے ہیں اور مستقبل قریب میں سیاست میں بھرپور حصہ لینے کی تیاری کر رہے ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے استفسار کیا کہ ’’چوہدری تیمور علی خان کو کب سیاست میں آنے کی اجازت دیں گے ’’انہوں نے کہا‘‘ میںنے ان کو اجازت دے رکھی ہے وہ کھل کر سیاسی میدان میں کھیلیں اورجو پارٹی جائن کریں میری طرف سے کو ئی پابندی نہیں۔ ’’ڈیڑھ گھنٹے کی ملاقات بقول چراغ حسن حسرت‘‘ غیروں سے کہا تم نے غیروں سے سنا تم نے ... کچھ ہم سے کہا ہوتا کچھ ہم سے سنا ہوتا ’’کے مترادف تھی۔ پرانے دوستوں سے ملاقات میں ملکی سیاست اور انکے آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل پر بات چیت ہوئی۔ پچھلے ایک سال کے دوران وزیر اعظم محمد شہباز شریف فیض آباد میں چوہدری نثار سے انکے ڈیرے پردو بار ملاقاتیں کر چکے ہیں، پہلی ملاقات میں انکی عیادت کی دوسری بار ان کی خوشدامن کی وفات پر تعزیت کی لیکن ان دونوں ملاقاتوں میں ملکی سیاست موضوع گفتگو رہی ،دونوں بار وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اپنے قائد محمد نواز شریف کی اجازت سے چوہدری نثار علی خان کی رہائش گاہ پر قدم رکھا اور انکا ’’سلام محبت اورنیک تمنائوں‘‘ کا پیغام پہنچایا۔ چوہدری نثار علی خان نے بھی انہی جذبات کا اظہار کیا لیکن بات ’’سلام دعا‘‘ سے آگے نہ بڑھ سکی، دوریاں ختم نہ ہو سکیں۔ سیاست میں ’’عزت و وقار اور انا‘‘ آڑے آرہی ہےجسکے باعث چوہدری نثار علی خان نے دوبارہ جاتی امرا کی طرف دیکھا اور نہ ہی میاں صاحب کو ایک قیمتی دوست کھو دینے کا احساس ہوا۔ البتہ وزیر اعظم محمد شہباز شریف کی چوہدری نثار علی خان سے ہر ملاقات کے بعد انکی مسلم لیگ (ن) میں واپسی کی افواہیں گردش کرنے لگتی ہیں سوشل میڈیا کا دور ہے جس میں یو ٹیوبرز کوئی خبر کنفرم کئے بغیر........
