حامد میر
سابق وزیراعظم نواز شریف نے گلگت میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے ایسا شکوہ کیا ہے جس نے اُن کے بہت سے ساتھیوں اور پرستاروں کو حیران بلکہ پریشان کر دیا ہے۔اس شکوے کےبعد مسلم لیگ (ن) کے سیاسی مخالفین کاجوابِ شکوہ بھی سامنے آ رہا ہے، لیکن بحث کا رخ گلگت بلتستان کے مسائل سے ہٹ کر پاکستانی سیاست دانوں کی بیچارگی کی طرف مڑ گیا ہے۔ نواز شریف تین دفعہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں، افسوس کہ تینوں مرتبہ وہ اپنی حکومت کی مدت پوری نہ کر سکے۔ گلگت کے جلسے میں انہوں نے وہاں کی ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گلگت سی پیک کا مرکز ہے، لیکن میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت کو نظر انداز کیوں کیا گیا؟ انہوںنے کہا کہ آج این ایف سی کے ذریعے گلگت بلتستان کیلئے فنڈز مانگے جا رہے ہیں، لیکن میں آپ کو یاد دلانا چاہتا ہوں کہ 2017ء میں میری حکومت نے ایک کمیٹی بنائی تھی جس نے گلگت بلتستان کے مستقبل کے بارے میں سفارشات مرتب کی تھیں جن پر ہم نے عمل درآمد کرنا تھا، لیکن پھر مجھے حکومت سے نکال دیا گیا۔ نواز شریف صاحب نے شکوے کے انداز میں کہا کہ مجھ سے گلہ نہ کرو، میں گلہ سننے کو تیار نہیں۔ قصور تو آپ کا بھی ہے کیونکہ جب مجھے دیس سے نکالا گیا تو آپ نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ آگے چل کر انہوں نے فرمایا کہ میں آپ کے مسائل حل کرنے کیلئےشہباز شریف سے بات کروں گا۔ نواز شریف بھول گئے کہ 2017ء میں اُنہیں سپریم کورٹ نے نااہل کیا تو اُن کی جگہ اُنہی کے نامزد کردہ شاہد خاقان عباسی وزیر اعظم بنے۔ 2022ء میں شہباز شریف وزیر اعظم بنے۔2024ءکے انتخابات کے بعد شہباز شریف دوسری مرتبہ وزیر اعظم بنائے گئے۔میاں نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز پنجاب کی وزیر اعلیٰ ہیں۔ اُن کی دوسری بیٹی کے سسر اسحاق ڈار ڈپٹی وزیر اعظم ہیں۔ نواز شریف نے خود کہا کہ وہ گلگت والوں کے مسائل حل کرنے کیلئے شہباز شریف سے بات کریں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ شہباز شریف واقعی بہت کچھ کر سکتے ہیں، تو پھر انہوں نے گلگت والوںسے شکوہ کیوں کیا؟مجھےیادہےکہ 2017ء میں نااہلی کے بعد نواز شریف نے جی ٹی روڈ پر لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ اگر اس لانگ مارچ میں وسطی پنجاب کے لوگ بڑی تعداد میں شرکت کرتے تو سیاسی حکومتوں کے خلاف سازشوں میں کمی آ جاتی، لیکن وسطی پنجاب اور خاص طور پر لاہور کے لوگ کیوں باہر نہ آئے؟ نواز شریف کا شکوہ بجا ہے لیکن یہ شکوہ گلگت والوں سے نہیں بنتا لاہور والوں سے بنتا ہے جہاں سے نوازشریف 1985 میں پہلی دفعہ ایم پی اے بنے۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر والے تو ابھی تک اپنے حقوق مانگ رہے ہیں۔ یہاں جب بھی الیکشن ہوتا ہے تو پاکستان کے بڑے بڑے سیاستدان اپنا اپنا لشکرلے کر پہنچ جاتے ہیں، ایک دوسرے پر تنقید کرتے ہیں اور پھر الیکشن کے بعد حکومت بنا کر واپس چلے جاتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مسائل وہیں کے وہیں رہ جاتے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری بھی گلگت بلتستان کی انتخابی مہم میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے خلاف سازشوں کا ذکر کر رہے ہیں، لیکن یہ نہیں بتا رہے کہ سازش کون کر رہا ہے؟تحریکِ انصاف والے آپس میں لڑے جا رہے ہیں، حالانکہ 2020ء میں عمران خان نے بطور وزیرِ اعظم گلگت بلتستان کیلئے عبوری صوبے کی حیثیت کا اعلان کیا تھا۔ تحریکِ انصاف کے کچھ رہنماؤں کا دعویٰ ہے کہ انہیں انتخابی مہم سے دور رکھا جا رہا ہے۔ اس کی ایک وجہ انکی آپس میں نااتفاقی ہے۔ یہ نااتفاقی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی میں بھی نظر آ رہی ہے، لیکن وہ ایک دوسرے کا نام نہیں لے رہے۔ تحریکِ انصاف اُسی طرح کے سیاسی بحران کا شکار ہے، جس بحران سے 2017ء میں مسلم لیگ (ن) دوچار تھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ساتھ 2018ء کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی اور تحریکِ انصاف کے ساتھ 2024ء کے........
