اعظم ملک
ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سفارتی اور سیاسی پہلو بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں زیادہ توجہ میزائل حملوں، ڈرون کارروائیوں اور فضائی بمباری پر مرکوز تھی مگر اب سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ اس تصادم کا اختتام کس طرح ممکن ہے۔ اسی تناظر میں ایران کی جانب سے جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی تین شرائط نے اس بحران کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ایران کی پہلی شرط یہ ہے کہ ایران کے آئینی اور خودمختار حقوق کو تسلیم کیا جائے، بالخصوص اس کے دفاعی اور جوہری پروگرام کے حوالے سے۔ دوسری شرط جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کے معاوضے کی ہے، جس کے تحت ایران کا مؤقف ہے کہ اس کے شہری انفراسٹرکچر اور فوجی اہداف پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری قبول کی جائے۔ تیسری شرط مستقبل میں ایران کے خلاف جارحیت نہ کرنے کی عالمی ضمانت کی ہے تاکہ اس طرح کے حملے دوبارہ نہ ہوں۔بظاہر یہ شرائط ایک جنگ بندی کے فریم ورک کے طور پر پیش کی گئی ہیں لیکن درحقیقت یہ ایران کی سیاسی حکمت عملی کا بھی حصہ ہیں۔ ایران اس طرح دنیا کے سامنے یہ مؤقف رکھنا چاہتا ہے کہ وہ جنگ کا خواہاں نہیں بلکہ اپنی خودمختاری کے دفاع کے لیے لڑ رہا ہے۔ اس بیانیے کے ذریعے وہ عالمی رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
تاہم ان شرائط پر امریکہ اور اسرائیل کا ردعمل کافی حد تک متوقع تھا۔ واشنگٹن کی جانب سے فوری طور پر کسی رسمی قبولیت کا اشارہ نہیں دیا گیا ۔اسرائیل کا ردعمل اس سے بھی زیادہ سخت تصور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل کے لیے اس جنگ کا بنیادی مقصد ایران کی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور اس کے علاقائی اثر و رسوخ کو محدود کرنا ہے۔ اس لیے تل ابیب فوری جنگ بندی کو اپنی حکمت عملی کے خلاف سمجھتا ہے۔ اسرائیلی قیادت کے نزدیک اگر اس مرحلے پر جنگ روک دی گئی تو ایران کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔
دوسری طرف عالمی طاقتوں اور خطے کے ممالک کا ردعمل نسبتاً مختلف ہے۔ روس اور چین جیسے ممالک فوری جنگ بندی اور سفارتی حل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو اس کے اثرات عالمی معیشت اور بین الاقوامی استحکام پر پڑ سکتے ہیں۔ یورپی ممالک بھی عمومی طور پر تحمل اور مذاکرات پر زور دے رہے ہیں، کیونکہ وہ پہلے ہی توانائی کے بحران اور اقتصادی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔یہاں ایک اہم پہلو عالمی توانائی کی منڈیوں کا بھی ہے۔ خلیج فارس میں واقع Strait of Hormuz دنیا کی تیل کی سپلائی کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔ اس آبنائے کے اردگرد کشیدگی بڑھنے سے عالمی مارکیٹوں میں بے چینی پیدا ہو چکی ہے۔ اگر یہاں آمدورفت متاثر ہوتی ہے تو تیل کی قیمتیں غیر معمولی حد تک بڑھ سکتی ہیں، جس کے اثرات پوری دنیا کی معیشت پر پڑیں گے۔
اس جنگ کے مستقبل کے بارے میں اب تک پانچ بڑے ممکنہ منظرنامے سامنے آ رہے ہیں۔ پہلا امکان یہ ہے کہ شدید دباؤ کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کسی نئے سفارتی معاہدے کی راہ نکل آئے۔دوسرا منظرنامہ ایران کے اندر سیاسی تبدیلی کا ہے۔ اگر جنگ طویل ہو گئی اور معاشی دباؤ بڑھا تو ایران کے اندر سیاسی اختلافات یا عوامی احتجاج میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم ایران کے ریاستی ادارے خصوصاً پاسداران انقلاب اس وقت بھی مضبوط سمجھے جاتے ہیں، اس لیے فوری تبدیلی کا امکان محدود نظر آتا ہے۔تیسرا امکان یہ ہے کہ جنگ ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو جائے۔ ایران کے اتحادی گروپس، خاص طور پر لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی تحریک، اس صورتحال میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اگر یہ گروپس مکمل طور پر جنگ میں شامل ہو گئے تو اسرائیل کو بیک وقت کئی محاذوں پر لڑنا پڑ سکتا ہے۔چوتھا منظرنامہ زمینی جنگ یا بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی کا ہے۔ اگر امریکہ اور اسرائیل یہ سمجھیں کہ فضائی حملوں سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو رہے تو وہ ایران کی جوہری اور فوجی تنصیبات کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے زیادہ بڑی کارروائی کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ ایک انتہائی خطرناک قدم ہوگا کیونکہ اس سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔پانچواں اور نسبتاً زیادہ زیرِ بحث آنے والا منظرنامہ یہ ہے کہ امریکہ محدود فوجی کارروائیوں کو کامیابی قرار دے کر یکطرفہ فتح کا اعلان کر دے۔ اس حکمت عملی کے تحت واشنگٹن یہ مؤقف اختیار کر سکتا ہے کہ اس نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کمزور کر دیا ہے اور اس کے بعد وہ اپنی فوجی موجودگی کم کر سکتا ہے۔ اس طرح وہ طویل جنگ سے بچتے ہوئے داخلی سیاسی فائدہ بھی حاصل کر سکتا ہے۔
ان تمام امکانات کے درمیان ایران کی حکمت عملی کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔ ایران واضح طور پر ایک طویل جنگ کے تصور کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے جسے عسکری زبان میں ’’جنگِ استنزاف‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد فوری فیصلہ کن فتح حاصل کرنا نہیں بلکہ دشمن کو مسلسل دباؤ میں رکھنا اور اس کی سیاسی و معاشی برداشت کو کمزور کرنا ہے۔ مسلسل میزائل حملے، ڈرون کارروائیاں اور علاقائی اتحادیوں کی متحرکی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
تاہم ایک حقیقت واضح ہے کہ یہ تصادم صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان طاقت کے توازن کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک بڑے علاقائی اور عالمی نظام کی آزمائش بھی ہے۔ اگر سفارت کاری کامیاب ہو جاتی ہے تو شاید خطہ ایک بڑے بحران سے بچ جائے۔ لیکن اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔
ہمیں معلوم ہے مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں، امریکی نائب صدر ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای معمولی زخمی ہوئے تھے مگر وہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ہمیں معلوم ہے مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہیں، امریکی نائب صدر
ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای معمولی زخمی ہوئے تھے مگر وہ فرائض انجام دے رہے ہیں۔
ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی روسی پیشکش امریکا نےمسترد کردی امریکی صدر نے ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کردی۔
ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی روسی پیشکش امریکا نےمسترد کردی
امریکی صدر نے ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی پیشکش مسترد کردی۔
تل ابیب پر ایران کے میزائل حملے، متعدد مقامات پر آگ لگ گئی میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں 20 دھماکے سنے گئے، حملے کے بعد متعدد مقامات پر آگ لگ گئی۔
تل ابیب پر ایران کے میزائل حملے، متعدد مقامات پر آگ لگ گئی
میڈیا رپورٹس کے مطابق تل ابیب میں 20 دھماکے سنے گئے، حملے کے بعد متعدد مقامات پر آگ لگ گئی۔
امریکا نے مجتبیٰ خامنہ ای کی معلومات پر 1 کروڑ ڈالر انعام رکھا ہے، علی لاریجانی ایرانی عہدیداروں میں مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر سیکیورٹی و انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔
امریکا نے مجتبیٰ خامنہ ای کی معلومات پر 1 کروڑ ڈالر انعام رکھا ہے، علی لاریجانی
ایرانی عہدیداروں میں مجتبیٰ خامنہ ای اور دیگر سیکیورٹی و انٹیلی جنس حکام شامل ہیں۔
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں مزید 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید 5 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکا کا مشرق وسطیٰ میں مزید 5 ہزار فوجیوں کی تعیناتی کا اعلان
امریکا نے مشرق وسطیٰ میں مزید 5 ہزار فوجیوں کو تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔
کراچی میں زلزلے کے جھٹکے زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 اور گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
کراچی میں زلزلے کے جھٹکے
زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4 اور گہرائی 10 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔
مولانا فضل الرحمان کا ملکی صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ مولانافضل الرحمان نے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان اور اس کے مستقبل کا سوچنا ہے۔
مولانا فضل الرحمان کا ملکی صورتحال پر پارلیمنٹ کا ان کیمرا اجلاس بلانے کا مطالبہ
مولانافضل الرحمان نے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان اور اس کے مستقبل کا سوچنا ہے۔
بی ٹو بمبار طیارے ایران پر حملے کیلئے روانہ کردیے، امریکی سینٹرل کمانڈ امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر حملے کیلئے روانہ کر دیے گئے ہیں۔
بی ٹو بمبار طیارے ایران پر حملے کیلئے روانہ کردیے، امریکی سینٹرل کمانڈ
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ بی ٹو بمبار طیارے ایران پر حملے کیلئے روانہ کر دیے گئے ہیں۔
googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1526305243924-0'); });
سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے 2 ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا، وزارت اطلاعات وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے فتنہ الخوارج کے 2 ڈرون کو سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے فتنہ الخوارج کے 2 ڈرون کو کامیابی سے مار گرایا، وزارت اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات نے فتنہ الخوارج کے 2 ڈرون کو سیکیورٹی فورسز کی طرف سے مار گرانے کی تصدیق کی ہے۔
گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا کبھی یہ وعدہ نہیں ہوا، رانا ثناء وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا کبھی یہ وعدہ نہیں ہوا تھا۔
گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا کبھی یہ وعدہ نہیں ہوا، رانا ثناء
وزیراعظم شہبازشریف کے مشیر سیاسی امور سینیٹر رانا ثناء اللّٰہ نے کہا ہے کہ گورنر سندھ ایم کیو ایم کا ہوگا کبھی یہ وعدہ نہیں ہوا تھا۔
تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اکثر توجہ جنگی طاقت پر ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے۔
تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اکثر توجہ جنگی طاقت پر ہوتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے۔
پی سی بی کا بلیسنگ مزاربانی کیخلاف قانونی ایکشن لینے کا فیصلہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے زمبابوین کرکٹر بلیسنگ مزاربانی کے خلاف قانونی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی سی بی کا بلیسنگ مزاربانی کیخلاف قانونی ایکشن لینے کا فیصلہ
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے زمبابوین کرکٹر بلیسنگ مزاربانی کے خلاف قانونی ایکشن لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
کراچی میں تحریک آزادی القدس پاکستان کے تحت مرکزی یوم القدس ریلی نکالی گئی شیعہ علماء کونسل کی جانب سے بھی یوم القدس پر ریلی نکالی گئی، مقررین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مظالم کے باوجود فلسطینی عوام نے بھرپور مزاحمت کی ہے۔
کراچی میں تحریک آزادی القدس پاکستان کے تحت مرکزی یوم القدس ریلی نکالی گئی
شیعہ علماء کونسل کی جانب سے بھی یوم القدس پر ریلی نکالی گئی، مقررین کا کہنا تھا کہ اسرائیلی مظالم کے باوجود فلسطینی عوام نے بھرپور مزاحمت کی ہے۔
فرانس، اٹلی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کیلئے ایران سے بات چیت پر آمادہ یورپی ممالک فرانس اور اٹلی نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر گاہ کے لیے ایران سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
فرانس، اٹلی آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کیلئے ایران سے بات چیت پر آمادہ
یورپی ممالک فرانس اور اٹلی نے آبنائے ہرمز سے محفوظ گزر گاہ کے لیے ایران سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
سلمان علی آغا کا رن آؤٹ کھیل کی اسپرٹ کیخلاف قرار بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں سلمان علی آغا کو میزبان ٹیم کے اسپنر مہدی حسن نے رن آؤٹ کیا لیکن کرکٹ کے حلقوں میں اس کو اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف قرار دیا جارہا ہے۔
سلمان علی آغا کا رن آؤٹ کھیل کی اسپرٹ کیخلاف قرار
بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ایک روزہ میچ میں سلمان علی آغا کو میزبان ٹیم کے اسپنر مہدی حسن نے رن آؤٹ کیا لیکن کرکٹ کے حلقوں میں اس کو اسپورٹس مین اسپرٹ کے خلاف قرار دیا جارہا ہے۔
دوسرا ون ڈے، پاکستان کی بنگلادیش کو 128 رنز سے شکست پاکستان نے بنگلادیش کو دوسرے ایک روزہ میچ میں 128 رنز سے شکست دے دی ہے۔
دوسرا ون ڈے، پاکستان کی بنگلادیش کو 128 رنز سے شکست
پاکستان نے بنگلادیش کو دوسرے ایک روزہ میچ میں 128 رنز سے شکست دے دی ہے۔
