انوار احمد

ایران ایک مرتبہ پھر آتش فشاں کے دہانے پر دکھائی دیتا ہے۔ ترکیہ، ایران اور پاکستان جنرل ایوب خان کے زمانے سے علاقائی تعاون تنظیم کے رکن تھے، تب ویزے، ڈاک اور ثقافتی میدان میں کافی سہولتیں دکھائی دیتی تھیں، حتیٰ کہ شاہ جب یکے بعد دیگرے خوبصورت خواتین کے بطن سے اپنا ولیعہد چاہ رہے تھے تب پاکستان کے کئی صحافی اور شاعر ادیب بیگانی شادی میں عبداللّٰہ دیوانے بنے ہوئے تھے، پھر ولی عہد پیدا ہو گیا تو ہمارے اخبارات نے ایڈیشن شائع کئے، اسی جوش میں شاہ بانو فرح دیبا کے نام سے پارک موسوم ہوئے، جمہوریت کیلئے تڑپ رکھنے کے باوجود شہنشاہیت کا دو ہزار برس کا جشن بھی منایا۔ فرح دیبا خوبصورت تو تھی ہی داستانوی کردار بننے کی خاطر انکی ہر کوشش بھی ہمیں دلفریب لگتی، البتہ تھوڑی سی بے چینی تب ہوئی جب شاہ بانو نے پاکستان کی کشور ناہید یا انتظار حسین کی بجائے بھارت سے نامور افسانہ نگار قرۃ العین حیدر کو اپنے اوپر ایک بڑی کتاب لکھوانے کیلئے تہران بلایا اور وہ کئی ہفتے ایک شاندار محل میں رہیں، یہ اور بات کہ اس زمانے میں عوام میں بے چینی کے آثار پیدا ہو گئے اور یوں اس عظیم افسانہ نگار نے شہنشاہیت کے عظیم ستونوں کو لرزتے دیکھا انہوں نے اپنے انداز میں بہت کچھ لکھا ادھر شاہ کی سفاک فورس ساواک کے ہاتھوں ہمارے سمیع آہوجہ نےبہت تکلیفیں سہیں، وہ بتاتے تھے ان کے دانت اور ناخن نکال کے کئی دن رات انہیں الٹا لٹکایا گیا،تاہم انہوں نے یہ ماجرا بہت مشکل زبان میں لکھا جب کہ قرۃ العین حیدر نے مرزا دبیر کے مرثیے سے ایک مصرع لیکر ایک رپورتاژ ’’قید خانے میں تلاطم ہے کہ ہند آتی ہے‘‘ لکھا اور کچھ جستہ جستہ اس دور کے بارے میں جب امام خمینی پیرس سے واپس ایران میں لوٹ آئے تھے اور خوش عقیدہ لوگ دیوانے ہو رہے تھے قرۃ العین ملائیت کے ہاتھوں قطب زادہ کو بھی ہلاک ہوتے دیکھ رہی تھی ایک خونخوار قاضی القضاۃ خلخالی کی شعلہ بیانی پر کڑھ رہی تھی ایک طرح سے دہائی دے رہی تھی کہ اپنے نوجوانوں کے منہ میں مرگ بر ...،لعنت پر ... جیسے نعرے دے کے اس مہذب ثقافتی ورثے کو کیوں برباد کر رہے........

© Daily Jang