We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

نئی نسل نہیں قصوروار ہم ہیں

9 1 14
18.11.2018

ایک بہت ہی کالی بلّی چمکتی آنکھوں کے ساتھ صبح صبح رستہ کاٹ گئی ہے۔

آپ بتائیں کہ میں اپنی راہ چلتا رہا ہوں یا رستہ بدل لوں۔

لوگ تو اچانک اپنا قبلہ بدل لیتے ہیں۔ پھر بڑی ڈھٹائی (یہ لفظ مناسب نہیں، یہ تو چینلوں والے بولتے ہیں) بلکہ بڑے دھڑلے سے ان نظریات کا پرچار کرتے ہیں۔ جن کی وہ ایک رات پہلے تک شد و مد سے مخالفت کرتے تھے۔ کیسے آجاتا ہے یہ ہنر انہیں۔

اس لمحے تو میں سرشار ہوں، اپنی مٹّی کی زرخیزی سے۔ اقبال بار بار یاد آرہے ہیں ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘۔ اصل مسئلہ ’ذرا نم‘ ہی ہے۔ نم کیلئے ڈیم بنانے کا شعور پیدا کیا جا رہا ہے۔ وہ جو اپنے آپ کو حقیقی عوامی نمائندے کہتے ہیں انہوں نے تو اپنی باریوں میں یا مکمل میعاد میں ڈیم کی بات ہی نہیں کی۔ اب اگر چیف جسٹس اور وزیراعظم ایک ڈیم کیلئے چندہ بھی جمع کر رہے ہیں اور بار بار ہمیں یاد بھی دلا رہے ہیں تو یہ بزعم خود ہمارے قائدین کہہ رہے ہیں، حکومت حقیقی نمائندے ہی چلا سکتے ہیں۔ حکومت چلانا ایک اچھا موضوع ہے۔ اس پر تاریخ اور جغرافیے کی روشنی میں دیکھا جانا چاہئے کہ کون حکومت چلا سکا، کون نہیں۔ ابھی تو مجھے سندھ بوائے اسکائوٹس آڈیٹوریم کا منظر آپ کے سامنے لانا ہے۔ جہاں سندھ کے دارالحکومت کراچی اور اندرونِ سندھ سے طلبا و طالبات، اساتذہ اور پرنسپل آئے ہوئے ہیں۔ موضوع ہے ’سندھی ادب و ثقافت۔ ماضی، حال، مستقبل‘۔ ان نوجوانوں نے اپنے مضامین مقابلے میں شرکت کیلئے بھجوائے ہیں۔

سندھ کے وزیر تعلیم و ثقافت و سیاحت سید سردار علی شاہ بہت اچھی باتیں کر رہے ہیں۔ قومی زبان اور علاقائی ثقافتوں کے درمیان........

© Daily Jang