We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

کیا زرداری موجو دہ شکنجے سے بچ پائیں گے؟

10 21 107
15.11.2018

سیاست کا عمل بھی جنگ کی طرح ولولہ انگیز اور خطرناک ہے۔جنگ میں تو آپ ایک بار رزق خاک ہو جاتے ہیں مگر سیاست میں کئی بار مرنا پڑتا ہے۔(ونسٹن چرچل)

ہاں مگر اہل سیاست کی مو ت ہو یا زندگی،ابدی نہیں ہوتی۔چرچل کی بات کو آگے بڑھائیں تو حاصل کلام یہ ہے کہ سیاستدان خزاں رسیدہ موسم میں مُرجھا تو جاتے ہیں مگر مرتے نہیں۔سیاسی جماعتیں آکاس بیل کی طرح ہوتی ہیں،تراش خراش کرنے والا مالی سمجھتا ہے کہ اس نے پودے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے مگر رُت بدلتی ہے اور موسم سازگار ہوتا ہے تو ایک ننھی سی کونپل پھوٹتے ہی یہ بیل پھر سے پھیل جاتی ہے۔کئی برس بعد کراچی جانے کا اتفاق ہوا تو اسی ادھیڑ بن میں تھا کہ کیابھٹو اب بھی زندہ ہو گا یا پھرجبر ناروا کے پے درپے طوفانوں نے پیپلز پارٹی جیسے تن آور درخت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہو گا ؟کراچی سے کئی خوبصورت یادیں وابستہ ہیں مگر آخری مرتبہ جنرل (ر)پرویز مشرف کے دورِ اقتدار میں شہر قائد گیا تو چار سو خوف کے سائے دکھائی دیتے یا پھر بانی ٔایم کیو ایم کے پورٹریٹ نظر آتے۔مجھے توقع تھی کہ شاید اس بار کراچی نئے پاکستان کے رنگ میں رنگا جا چکا ہوگا لیکن یہ دیکھ کر خوشگوارحیرت ہوئی کہ شہر بھر کی مرکزی شاہراہوں پر پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور آصف زرداری کے قد ِ آدم پوسٹرز نصب تھے اور چارسو پیپلز پارٹی کے جھنڈے،بینرز اور فلیکس دیکھ کر یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ کراچی نہیں بلکہ لاڑکانہ ہے۔سیاسی فضا اور گہما گہمی دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے انتخابات کے بعد بھی جیالوں کے جوش و خروش میں کوئی کمی نہیں آئی۔صحافی دوستوں سے پوچھنے پر........

© Daily Jang