We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پارلیمنٹ سے باہر بکھری دانش اور صلاحیتیں

10 1 19
11.11.2018

صدیوں کی ریاضت کے بعد مفکرین اور سیاستدان اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ پارلیمان جیسا ادارہ ہی عوام کی اُمنگوں خواہشات اور ان کے حقیقی مسائل کا جائزہ لے سکتا ہے۔ تجزیہ کر سکتا ہے اور پریشانیوں کو دور کرنے کے لیے قانون سازی کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسے مقننہ کا نام بھی دیا گیا۔

ہماری پارلیمان میں جو کچھ ہو رہا ہے اس سے پارلیمنٹ کے اندر بیٹھے معزز ارکان بھی بیزار ہو رہے ہیں۔

زبان بگڑی سو بگڑی تھی، خبر لیجئے دہن بگڑا

صدیوں سے کہا جاتا تھا کہ یہ غیر پارلیمانی لفظ ہے۔ اسے حذف کر دیں۔ اب پارلیمنٹ میں وہی غیر پارلیمانی الفاظ حاوی ہو گئے ہیں۔

تھا جو ناخوب بتدریج وہی خوب ہوا

مہذب ملکوں میں پارلیمنٹ واقعی بہت مقدس، بہت نمائندہ ہوتی ہے۔ اس میں مباحثے کا معیار بلند ہوتا ہے۔ موضوعات دیانتداری اور ذمہ داری سے چُنے جاتے ہیں۔ وہاں انتخابی نظام کو مسلسل بہتر بناتے ہوئے یہ اعتماد حاصل ہو گیا ہے کہ اب پارلیمنٹ میں وہی افراد پہنچتے ہیں جو اس کے حقدار ہوتے ہیں۔ پھر وہ اپنے علاقے کی اجتماعی دانش کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ اپنے حلقے کے مسائل کو قومی اور بین الاقوامی تناظر میں دیکھ کر ان کا حل بھی تجویز کرتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے اس درجہ فعال، معیاری اور مخلص ہونے کے باوجود ان مہذب جمہوری ملکوں میں پارلیمنٹ کے باہر موجود دانش اور صلاحیتوں سے بھی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ مقصد ملک کو آگے لے جانا اور عوام کی زندگی کو آسان سے آسان اور محفوظ سے محفوظ تر بنانا ہوتا ہے۔ آج وہاں کے پُرسکون اور آگے بڑھتے معاشرے کی کشش ہی پاکستان اور دوسرے پسماندہ ملکوں سے نوجوانوں کو ان ملکوں میں لے جاتی ہے۔ یہ سکون اور آگے بڑھنے کا رُجحان اچانک حاصل نہیں ہو گیا۔ اس کے پیچھے برسوں کی مسلسل کوششیں ہیں۔ متفقہ طور پر روڈ میپ طے کر لیے گئے........

© Daily Jang