We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

ہم سب خیرات کے انتظار میں کیوں رہتے ہیں

7 3 28
28.10.2018

ہم سب من و سلویٰ کے عادی ہوچکے ہیں۔

عطیات اور خیرات کا انتظار کرتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ تو فرماتے ہیں:’’انسان کے لیے وہی ہے جس کے لیے کوشش کرے۔‘‘

رسول اللہ ﷺ نے ہمیں پیغام دیا۔ محنت کرنے والا اللہ کا حبیب ہے۔

ہم دیکھ بھی رہے ہیں کہ دُنیا میں مہذب اور ترقی یافتہ قومیں وہی ہیں جہاں خیرات نہیں ہے۔ رعایتی قیمتیں نہیں ہیں۔ سب محنت کرتے ہیں۔9سے 5دفتر میں ایسے ڈیوٹی کرتے ہیں کہ کوئی بے مقصد فون نہیں۔ کوئی کسی کے دفتر اچانک نہیں جا ٹپکتا۔ ذاتی۔ سماجی ملاقاتیں دفتری اوقات کے بعد ہوتی ہیں۔ کوئی دستر خوان نہیں بچھائے جاتے۔ کہیں مفت کھانے نہیں کھلائے جاتے۔ وہاں غیر سرکاری تنظیمیں سرکار کا کام نہیں کرتی ہیں۔ اسکول۔ اسپتال۔ انسان سب ریاست کی ذمہ داری ہے۔ایسا نظام تشکیل دے چکے ہیں کہ زندگی کی ساری ضروریات کی فراہمی بر وقت اور قواعد و ضوابط کے تحت ہوجاتی ہے۔ ادارے مالی امداد کے لیے چیختے چلاتے نہیں ہیں۔

مگر ہم جو بادشاہوں کے وارث ہیں۔ جنہیں شاہی خلعتوں کی عادت ہوچکی ہے۔ بادشاہ راخوش آمد و محمود شام را خلعت داد۔ مغل بادشاہ کو کسی نے مے نوشی کے وقت برف فراہم کردی تو ایک آباد علاقہ اس ٹھیکیدار کے حوالے کردیا۔ وہ جدی پشتی جاگیردار بن گئے۔ پھر انگریز اسی طرح عنایات کی بارشیں کرتے رہے۔ قبائل کے سردار ہیں۔ ان کے علاقوں میں سونا ہے تانبا ہے۔لیکن وہ مرکزی حکومت کے وظیفے کا انتظار کرتے ہیں۔ سرکاری منصوبوں میں اپنے لوگوں کو بغیر کام کے تنخواہیں دلواتے ہیں۔

کام کیے بنا معاوضوں۔ وظیفوں۔ مشاہروں کی عادت ہم سب کو پڑ چکی ہے۔........

© Daily Jang